آڈیو لیکس: پی ٹی آئی کی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست

پاکستان تحریک انصاف نے آڈیو لیکس پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
سنیچر کو پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست کے ساتھ مبینہ آڈیو لیکس کا ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن وزیراعظم، رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ آصف اور سپیکر سے تحقیقات کرے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اور وفاقی وزرا نے سپیکر کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی استعفوں سے متعلق فوجداری سازش کی۔
درخواست کے مطابق تمام فریقین کے خلاف سازش پر فوجداری کارروائی شروع کی جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آڈیو لیکس میں درخواست گزار کو پارلیمانی سیاست سے دور رکھنے کی سازش کی گئی۔
25 ستمبر کو وزیراعظم کے دفتر میں سیاسی رہنماؤں کی گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک منظر عام پر آئی تھی۔
اس آڈیو لیک میں تحریک انصاف کے استعفوں سے متعلق معاملہ سامنے آیا تھا۔
27 ستمبر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ اعلٰی اختیاراتی کمیٹی کے ذریعے معاملے کا جائزہ لیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’آڈیو لیکس کے بعد باہر سے پاکستان کے وزیراعظم سے ملنے کون آئے گا؟ یہ سکیورٹی لیپس ہے۔‘
خیال رہے کہ وزیراعظم آفس کی آڈیو لیکس پر نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا تھا جس میں آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے اعلٰی اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی۔ وزیرداخلہ رانا ثنااللہ خان کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی آڈیو لیکس کے حوالے سے جمعے کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ڈپلومیٹک سائیفر سے متعلق آڈیوز کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں آڈیوز کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔