آڈیو لیک سکیورٹی لیپس، یہ باتیں دشمن تک پہنچ سکتی ہیں: عمران خان

عمران خان نے کہا کہ’ ہمارا لانگ مارچ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہو گا۔‘ (فوٹو: سکرین گریب)

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’وزیراعظم کی سکیور لائن کی ٹیپس بنائی گئیں اور لیک کی گئیں۔ یہ سنگین معاملہ ہے۔‘
عمران خان نے پیر کو نجی نیوز چینل 92 نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ان سے پوچھیں کہ یہ کتنا بڑا سکیورٹی بریچ ہے۔ پوچھنا ہوگا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کی سکیور لائن ٹریپ کی گئی۔ وزیراعظم کو تو اور بھی بہت سی اہم باتیں کرنا ہوتی ہیں۔ یہ باتیں دشمن تک بھی جا سکتی ہیں۔‘
’ہماری سکیورٹی ایجنسیز کو بھی سوچنا ہوگا۔ سیاسی انجینئرنگ تو آپ کا کام نہیں ہے۔‘
حکمران جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے امریکی سفارت کار کے سائفر کی چوری کے الزام سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سائفر کی ماسٹر کاپی فارن آفس میں موجود ہے۔ یہ کس سائفر کی چوری کی بات کر رہے ہیں۔ میرے پاس کو سائفر کی کاپی آئی تھی۔‘
’سائفر کی کاپیاں صدر اور وزیراعظم کو گئی تھیں۔‘
انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’شریفوں سے اس لیے نہیں ملتا کیوں کہ یہ چور ہیں۔‘
عمران خان نے اپنی آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کے بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ ہمارا لانگ مارچ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لانگ مارچ کے بارے میں معاملات خفیہ رکھوں گا۔ میرے فون ٹیپ ہو رہے ہیں۔ ہماری ہر بات لیک ہو جاتی ہے اس لیے میں صرف دو چار انتہائی بااعتماد لوگوں سے اس بارے میں بات کی ہے۔‘
اگلے انتخابات سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ فروری مارچ میں یہ الیکشن کرائیں گے کیونکہ اس وقت انہیں معلوم ہے کے ان کا گراف نیچےچلا گیا ہے۔ اس لیے انہوں نے کھینچنا ہے۔‘
’معیشت سیاسی عدم استحکام کے بغیر ٹھیک ہو ہی نہیں سکتی۔‘
اس الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے کبھی توقع نہیں کر سکتا کہ الیکشن شفاف ہو سکتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے نون لیگ کا جیالا ہو۔‘