اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا، افغانستان کی پہلی خاتون اینیمیٹر

افغانستان کی پہلی خاتون اینیمیشن آرٹسٹ سارہ بارکزی نہ صرف اپنی کارٹون سیریز پر کام کر رہی ہیں، بلکہ کئی ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہیں۔
طالبان کے دور میں پیدا ہونے والی سارہ بارکزی کا کام افغانستان میں جنگ، خواتین کے حقوق اور ان حالات میں سارہ کی اپنی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔
نوجوان اینیمیٹر سارہ نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا کہ ان کا تعلق افغانستان کے شمالی صوبے ہرات سے ہے۔ طالبان کے دورے حکومت میں سارہ کی فیملی کو ہرات شہر چھوڑ کر ایک گاؤں میں پناہ لینا پڑی تھی۔
مزید پڑھیں
 سارہ بچپن میں ہی قوت سماعت سے محروم ہو گئی تھیں۔
’میرے والد مجھے بولنے میں مدد کرتے تھے، لیکن سننے کی قوت رکھے بغیر بولنا مشکل تھا۔‘
سارہ کی زندگی تب بدلنا شروع ہوئی جب انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں سننے کا آلہ استعمال کرنا شروع کر دیا، جس کے بعد سارہ کے لیے سکول جانا بھی ممکن ہوا۔
سارہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے افغان عورتوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔
’افغان عورتوں کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے باقیوں سے کئی زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔‘
سارہ نے بتایا انہوں نے اپنے لیے ہمیشہ بڑے خواب دیکھے، لیکن ان کے لیے لڑنا کبھی آسان نہیں تھا۔
’اپنے لیے آزادی حاصل کرنا میرا سب سے بڑا چیلنج تھا، اور آج بھی یہ جدوجہد جاری ہے۔‘

سارہ اپنے آرٹ کے ذریعے افغانستان کے حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ فوٹو انسٹا سارا بارکزی
سارہ بارکزی نے 15 سال کی عمر میں سکول کی تعلیم ختم کی تو پھر ترکی میں اینیمیشن آرٹ پڑھنے کی غرض سے سکالر شپ کے لیے درخواست جمع کروائی۔
ترکی سے اینیمیشن آرٹ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد سارہ اب افغانستان میں نوجوان خواتین کو اینیمیشن سکھاتی ہیں۔
سارہ کا افغانستان میں یونیورسٹی اور اینیمیشن آرٹ سکول کھولنے کے علاوہ دنیا کے نامور امریکی اینیمیشن سٹوڈیو ’پکسار’ کے لیے کام کرنے کا خواب ہے۔
سارہ اپنے آرٹ کے ذریعے افغانستان کے بارے میں تاثر بدلنا چاہتی ہیں۔ ’میرا ملک مہربان لوگوں سے بھرا ہوا ہے، مزیدار کھانوں اور قدیم ثقافت سے، یہی میں دنیا کو دکھانا چاہتی ہوں۔‘