اپوزیشن ارکان اسمبلی 30 گھنٹوں سے تھانے میں، پولیس کا گرفتار کرنے سے انکار

بلوچستان اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں نامزد قائد حزب اختلاف سمیت اپوزیشن کے 15 ارکان اسمبلی گزشتہ تیس گھنٹوں سے کوئٹہ کے بجلی روڈ پولیس تھانہ میں موجود ہیں تاہم پولیس انہیں گرفتار کرنے سے انکاری ہے۔ 
اپوزیشن ارکان اسمبلی نے پیر کو تھانہ میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی اور رات تھانے میں گزاری۔ 
رات گئے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو کی سربراہی میں حکومتی وفد نے اپوزیشن سے مذاکرات کیے مگر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ پولیس نے حکومت سے پوچھے بغیر ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔  
اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ سمیت جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 17 ارکان اسمبلی کے خلاف 18 جون کو بجٹ اجلاس کے موقع پر بلوچستان اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کے الزام میں ایس ایچ او کی مدعیت میں اقدام قتل سمیت 17 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
تھانے میں موجود بی این پی کے احمد نواز بلوچ کا کہنا ہے کہ پولیس نے حکومت کے کہنے پر پہلے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا اب گرفتار کرنے سے انکار کر رہی ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہ مقدمہ بلاجواز تھا۔
’ہم پیر کی دوپہر سے تھانے میں موجود ہیں اور یہی رات گزاری۔ حکومت مقدمہ واپس لے یا پھر ہمیں گرفتار کرے، ہم تب تک تھانے سے نہیں جائیں گے۔‘ 
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسمبلی سیشن کے دوران ارکان اسمبلی کو سپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ 
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے اردو نیو زسے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے، بجٹ میں اپوزیشن کے حلقوں کو نظر انداز کر کے غیر آئینی طریقے سے غیر منتخب افراد کے ذریعے ترقیاتی فنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں۔ 
’اپوزیشن کے پر امن احتجاج کو سبوتاژ کر کے حکومت نے بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے چڑھائی کی اور ہمارے ارکان اسمبلی کو زخمی کیا، بعد میں شرمندگی محسوس کرنے کے بجائے الٹا مقدمہ بھی ہمارے خلاف درج کیا۔‘ 

اپوزیشن اراکین پر اقدام قتل سمیت 17 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ فوٹو اردو نیوز
ان کا کہنا تھا کہ وہ جیلوں سے ڈرنے والے نہیں، حکومت اگر مقدمات درج کر کے سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کی آواز کو دبا دے گی تو وہ غلط ہے، اپوزیشن اب جام حکومت کا خاتمہ کر کے ہی دم لے گی۔
یاد رہے کہ 18 جون کو اپوزیشن اراکین نے بلوچستان حکومت کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کے لیے سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ اسمبلی کے اندر گھس کر دروازوں کو تالے لگا دیے تھے۔ 
پولیس کی کوششوں کے باوجود وزیراعلیٰ اور دیگر حکومتی ارکان اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے میں ناکام ہوئے تو پولیس بکتر بند گاڑی کے ذریعے اسمبلی کے عقبی آہنی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئی۔ بکتر بند گاڑی کی ٹکر سے دو اپوزیشن ارکان عبدالواحد صدیقی اور بابو رحیم مینگل بھی زخمی ہوئے تھے۔ 
بلوچستان اسمبلی کی تاریخ پر بد نما داغ‘
دسمبر 1970ء کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پہلی اسمبلی سے لے کر اب تک بلوچستان میں 11 اسمبلیاں بنی ہیں۔ تقریباً تمام اسمبلیوں کے اجلاسوں کی رپورٹنگ کرنے والے کوئٹہ کے سینئر صحافی سلیم شاہد کے بقول 50 سالہ تاریخ میں بلوچستان اسمبلی کے احاطے کے اندرکبھی ایسی ہنگامہ آرائی اور ناخوشگوار صورتحال نہیں دیکھی۔
سلیم شاہد نے بتایا کہ ’نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل، گل خان نصیر، عبدالصمد خان اچکزئی، جام غلام قادرسمیت قد آور شخصیات بلوچستان اسمبلی کا حصہ رہی ہیں۔ اسمبلیوں کو ہمیشہ شائستہ طریقے سے چلایا گیا۔ ذاتی اور قبائلی دشمنیوں کے باوجود ارکان اسمبلی ایوان کے اندر کبھی ایک دوسرے سے اس طریقے سے پیش نہیں آئے۔‘

اپوزیشن رکن ثناء بلوچ کے مطابق ترقیاتی فنڈز صرف حکومتی ارکان کے حلقوں میں خرچ ہوئے۔ فوٹو اردو نیوز
 سینئر صحافی و تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقارکا کہنا ہے کہ پہلے اپوزیشن نے دروازوں کو تالے لگا کر اورمعزز ارکان اسمبلی کو ایوان کے اندر جانے سے روک کر غلط کام کیا پھر حکومتی احکامات پر پولیس کی جانب سے اسمبلی کے دروازے اور ارکان پر بکتر بند گاڑی چڑھانے جیسا انتہائی اقدام اٹھایا گیا۔
حکومت اور اپوزیشن میں تنازع کس بات پر ہے؟
سینئر صحافی و تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم ہے۔
’ماضی میں فنڈز ارکان اسمبلی کی صوابدید پر خرچ ہوتے تھے۔ نواب اسلم رئیسانی کے دور میں تمام ارکان اسمبلی کو سالانہ 70، 70 کروڑ روپے تک کے ترقیاتی فنڈز ملتے تھے۔ ان کے بعد بننے والی ن لیگ، پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کی حکومت میں بھی فنڈز ارکان اسمبلی کی صوابدید پر خرچ ہوئے مگر اپوزیشن ارکان کو نسبتاً کم حصہ دیا گیا۔ 
بی این پی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رکن ثناء بلوچ کا الزام ہے کہ گزشتہ 3 سالوں میں ترقیاتی مد میں 300 ارب روپے جاری کیے گئے مگر یہ ساری رقم حکومتی ارکان کے حلقوں میں خرچ کیے گئے، اپوزیشن کے حلقوں کومحروم رکھا گیا۔
تاہم وزیرخزانہ ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا یہ مطالبہ درست نہیں کہ ان کے حلقوں میں حکومت خود کوئی ترقیاتی کام نہ کرائے اور اگر کوئی رقم خرچ کرنی ہے تو وہ اپوزیشن کے ذریعے ہی خرچ کی جائے، ایسا کسی قانون میں نہیں لکھا، بجٹ بنانا اور اسے خرچ کرنا حکومت کا آئینی و قانونی اختیار ہے۔