اپوزیشن لیڈر کا چیمبر خالی، حمزہ شہباز سیاسی منظرنامے سے غائب کیوں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دو مہینے سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود ابھی تک اپوزیشن لیڈر کا نوٹفیکیشن نہیں ہو سکا۔
اس کے لیے پنجاب اسمبلی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے حمزہ شہباز کے اپوزیشن لیڈر بننے کی درخواست بھی سپیکر کو دے رکھی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ نہ حکومت کو ایوان میں اپوزیشن لیڈر کی ضرورت ہے اور نہ ہی حمزہ شہباز اس اہم عہدے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ 
یہی نہیں بلکہ وہ 22 جولائی کے وزیراعلٰی کے انتخاب کے بعد پنجاب اسمبلی میں آئے ہی نہیں ہیں۔ وہ کئی ہفتے لندن میں بھی رہے اور واپس آکر انہوں نے ابھی تک کسی قسم کی سیاسی سرگرمی شروع نہیں کی ہے۔
مزید پڑھیں
اس کی وجہ سے کئی طرح کے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا وہ پارٹی پالیسی سے نالاں ہیں یا ان کا رول محدود ہو گیا ہے۔ 
سیاسی طور پر ہونے والی ان چہ مگوئیوں کے بعد مسلم لیگ ن پنجاب نے حال ہی میں ایک پریس ریلیز جاری کی ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں ’جنوبی پنجاب میں مریم نواز اور حمزہ شہباز اکھٹے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے جن میں سیاسی جلسے بھی ہوں گے اور ریلیاں بھی ہوں گی۔ جلد ان جلسوں کا شیڈیول بھی ترتیب دیا جائے گا۔‘
تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ایک اعلٰی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوزکو بتایا کہ ’میرا نہیں خیال ایسا کچھ ہونے جا رہا ہے۔ چونکہ ادھر ادھر کالموں میں اور سوشل میڈیا پر اس طرح کے سوال اٹھائے جا رہیں کہ ن لیگ کی پنجاب میں اتنی خاموشی کیوں اس لیے میڈیا کے لیے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’مریم نواز اگلے ہفتے پاسپورٹ ملنے کے بعد لندن روانہ ہو جائیں گی۔ جہاں تک میرا خیال ہے حمزہ نے ہر حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس خاموشی کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔‘

سلمان غنی کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پارٹی کے اندر پنجاب کے حوالے سے خاصی گڑبڑ ہے۔ (فوٹو: اے پی پی)
دوسری طرف مریم نواز نے ماڈل ٹاؤن میں واقع مرکزی دفتر میں ہلکی پھلکی سیاسی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان کے لیے باقاعدہ ایک دفتر مختص کر دیا گیا ہے۔ آخری میٹنگ میں پارٹی قائد نواز شریف بھی ٹیلیفون لائن پر موجود تھے اور مریم نواز نے پارٹی کے دیرینہ کارکنوں سے خود فون پر بات کی جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی کہ وہ نچلی سطح پر پارٹی منظم کر رہی ہیں۔‘
تو کیا حمزہ شہباز پارٹی سے ناراض ہیں؟ اس سوال کا جواب مسلم لیگ ن کی سیاست پر عشروں سے گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی سلمان غنی یوں دیتے ہیں کہ ’میرا نہیں خیال کہ میں یہ لفظ استعمال کروں گا لیکن میری معلومات کے مطابق پارٹی کے اندر اور باہر اکثریت حمزہ سے ناخوش ہے۔‘
’اس کی وجہ ان کے وزیراعلٰی بننے کے بعد حالات ہیں اور یہ واضع ہو چکا ہے کہ ان کی معاملات پر گرفت نہیں تھی اس لیے پنجاب مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور پارٹی کو اس کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔‘
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پارٹی کے اندر پنجاب کے حوالے سے خاصی گڑبڑ ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب پنجاب میں پارٹی کو حمزہ کی سخت ضرورت ہے ان کا ایسے خاموش ہونا پارٹی کے لیے اور نقصان دہ ہے۔ اس وقت سیاست کی بازی وہی جیتے گا جو جارحانہ نظر آئے گا۔ عمران خان نے یہ بات سب سیاست دانوں کو باور کروا دی ہے۔ اگر حمزہ دفاعی پوزیش سے باہر نہیں نکلیں گے تو خود ان کی سیاست خطرے میں ہوگی۔ ان کا سیلاب زدہ علاقوں میں نہ جانا بھی ان کے گھاٹے میں گیا ہے۔‘

عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے یہ اثر غلط ہے کہ پارٹی کے اندر کوئی دراڑ ہے یا سیاسی چپقلش ہے (فوٹو: اے پی پی)
پنجاب میں پارٹی ترجمان عظمی بخاری البتہ ان باتوں سے اختلاف کرتی ہیں۔ انہوں نے اردو نیوزسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی ضرور متحرک ہونے جا رہی ہے۔ حمزہ شہباز خود بھی بیمار تھے اور دوسرا ان کی بیٹی بھی شدید علیل ہیں اس لیے وہ لندن میں اتنے دن رہے۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ پارٹی نے مریم نواز اورحمزہ شہباز کے جلسوں کا اعلان کیا ہے لیکن مریم نواز تو پاسپورٹ ملنے کے بعد لندن جا رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ لندن جانا اور اپنے والد سے ملنا ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔
’اس کے لیے اگر جلسوں کا شیڈیول اوپر نیچے بھی کرنا پڑتا ہے تو اس میں کوئی عار والی بات نہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ پارٹی کے اندر کوئی دراڑ ہے یا سیاسی چپقلش ہے۔ حمزہ جلد منظرعام پر نظر آئیں گے۔‘