اپوزیشن کا اسپیکرقومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتمادلانے پرغور

پارلیمنٹ واقعہ جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، شہباز/بلاول

اپوزيشن اسپيکر قومی اسمبلی اسد قيصر کیخلاف تحريک عدم اعتماد لانے پر غور کر رہی ہے، جس کیلئے کمیٹی بنائی جائے گی۔ شہباز شريف اور بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر اتفاق کيا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو پارلیمنٹ میں بات نہ کرنے دی گئی تو حکومتی ارکان بھی نہیں بول سکیں گے۔ اپوزيشن قائدين کا کہنا تھا کہ کل کا دن جمہوريت کی تاريخ ميں سياہ ترين حيثيت رکھتا ہے۔

قومی اسمبلی میں منگل کو پیش آنیوالے واقعے پر متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر اسد قیصر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور شروع کردیا۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ان کے چیمبر میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات کی۔

ملاقات میں طے پایا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے کمیٹی بنائی جائے، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا گیا تو حکومتی ارکان کو بھی بات نہیں کرنے دی جائے گی۔

دونوں اپوزیشن رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں تصادم کے واقعے کو جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شريف نے پارليمنٹ ميں پيش آنیوالے واقعے کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاريخ ميں ايسے عمل کی مثال نہيں ملتی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومتی رويے کیخلاف مل کر لائحہ عمل اپنائيں گے، حزب اختلاف نے ردعمل نہيں ديا تو يہ جمہوريت کیلئے بہتر نہيں ہوگا، وزيراعظم بچوں کی طرح وزراء کو ہدايات دے رہے تھے، قائد حزب اختلاف پر بجٹ بک پھينکی گئی۔

منگل قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تصادم ہوا، اس دوران دونوں جانب سے بجٹ بک اور مختلف اشیاء ایک دوسرے پر پھینکی گئی، اشتعال انگیز صورتحال پر قابو پانے کیلئے سارجنٹ ایٹ آرمز کو بھی اسمبلی میں بلالیا گیا، اس دوران کئی اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے الجھتے رہے۔

متعلقہ خبریں