اپوزیشن کب اور کس محاذ پر حکومت کے خلاف کامیاب ہوئی؟

یوں تو وزیراعظم عمران خان کو اقتدار سنبھالتے ہی اپوزیشن کی جانب سے سیاسی مزاحمت کا سامنا تھا لیکن گزشتہ چند ماہ میں اپوزیشن کی جانب سے سیاسی مزاحمت میں نہ صرف شدت آئی ہے بلکہ اس نے سیاسی میدان میں فتوحات بھی سمیٹی ہیں۔
مزید پڑھیں
گذشتہ برس ستمبر میں اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک شروع کی تھی۔  اپوزیشن کا 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ملک بھر میں سیاسی جلسے شروع کر دیے تھے۔ 
اس دوران اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی سے استعفے دینے کا بھی اعلان کیا گیا لیکن اتحاد میں شامل پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ’اِن ہاؤس‘ تبدیلی لانے کا فارمولا پیش کیا۔ حکومت اس تجویز کو اپنی فتح قرار دینے لگی اور استعفوں کے اعلان سے یوٹرن لینے پر اپوزیشن کو ہدف تنقید بنایا۔  
حکومت نے دسمبر میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کے لیے صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو اپوزیشن نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کر دیا۔  

گذشتہ برس ستمبر میں اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک شروع کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

ضمنی انتخابات میں شکست 

19 فروری کو  پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے فیصلے کا دن قرار دیا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دو دو نشستوں پر ہونے والے ان انتخابات میں مسلم لیگ ن دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی جبکہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے حصے میں صرف ایک نشست آئی۔  
تاہم پنجاب کے حلقے این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج دیر سے آنے پر تنازع کھڑا ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے نتائج روکنے کا فیصلہ کیا۔  
مسلم لیگ ن نے حلقے میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا جو الیکشن کمیشن نے منظور کرتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔  

حمزہ شہباز کی رہائی  

مسلم لیگ ن ابھی ضمنی انتخابات میں کامیابی کا جشن منا ہی رہی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ نے 24 فروری کو منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست منظور کر لی۔ حمزہ شہباز 27 فروری کو 20 ماہ بعد کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوئے۔ 

لاہور ہائی کورٹ نے 24 فروری کو منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست منظور کر لی (فوٹو: مسلم لیگ ن)

سینیٹ انتخابات پر اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق سپریم کورٹ کی رائے 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کی جانب سے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر 25 فروری کو اپنی رائے محفوظ کی جسے یکم مارچ کو سنایا گیا۔  
سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے سے متعلق حکومتی موقف کے برعکس رائے دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے مطابق ہوں گے تاہم سپریم کورٹ نے صاف شفاف انتخابات کرانے کے لیے ٹیکنالوجی سمیت ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور ووٹ کی رازداری حتمی نہ ہونا قرار دیا۔

الیکشن کمیشن کا سینیٹ انتخابات پرانے طریقہ کار کے مطابق کروانے کا فیصلہ  

یکم مارچ کو سپریم کورٹ کی سینیٹ انتخابات کروانے سے متعلق رائے سامنے آنے کے بعد حکومت نے الیکشن کمیشن سے فوری رابطہ  کیا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے ووٹر کی رازداری حتمی نہ ہونے سے متعلق اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بیلٹ پیپر پر بار کورڈ یا دیگر ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی درخواست کی۔
تاہم حکومت کی یہ درخواست بھی کام نہ آئی اور الیکشن کمیشن نے وقت کی کمی کے باعث سینیٹ الیکشن پرانے طریقہ کار کے مطابق کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ سینیٹ انتخابات میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے متعلق کمیٹی قائم کر دی۔ 

اپوزیشن کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے عددی تعداد کم ہونے کے باوجود حکومت کے حفیظ شیخ کو شکست دے دی (فوٹو: اے ایف پی)

یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے درمیان بڑا معرکہ بھی اپوزیشن کے نام  

اپوزیشن نے گزشتہ چند ماہ سے اپنی سیاسی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سب سے بڑی فتح سینیٹ میں اسلام آباد کی نشست حکومت کو اپ سیٹ شکست دے کر حاصل کی جہاں اپوزیشن کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے عددی تعداد کم ہونے کے باوجود حکومت کے حفیظ شیخ کو شکست دی۔