اپوزیشن کی بجٹ تقاریر میں کوئی قابل ذکر بات نہیں تھی،فوادچوہدری

اپوزیشن اگربجٹ دستاویزپڑھ کرآتی توبحث ہوسکتی تھی

فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی بجٹ تقاریر میں کوئی قابل ذکر بات نہیں تھی اور اپوزیشن نے کسی تیاری کے بغیر ایوان کی کارروائی میں حصہ لیا۔

بدھ کو سماء کے پروگرام نیا دن میں بات کرتے ہوئے وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا کہ اپوزیشن اگر بجٹ دستاویز پڑھ کر آتی تو بحث ہوسکتی تھی تاہم انھیں تو قوانین کا بھی علم نہیں ہے۔ اپوزیشن کا رویہ غیر سنجیدہ ہے اوران کی تقریریں سطحی درجے کی تھیں۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ جدید جمہوریت کی ابتدا بجٹ سے ہوئی تھی۔12 ویں صدی میں ذمہ داروں کا بادشاہ سے بجٹ پر جھگڑا ہوا تھا اور یہ سب بجٹ سے شروع ہوا تھا۔بجٹ یہ ہے کہ عوام کا ٹیکس ہوگا اور عوام کے نمائندے فیصلہ کریں گے کہ عوام کا ٹیکس کن کو اور کہاں کیسے دینا ہے۔اگر اپوزیشن چاہتی تو بجٹ کے نکات پر خاطر خواہ پوائنٹس اجاگر کرسکتی تھی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں مہنگائی ہوئی ہے لیکن 60 فیصد زرعی آبادی کی قوت خرید بڑھی ہے اور 1100 ارب روپے زرعی شعبے میں گئے ہیں۔ ملک میں تنخواہ پیشہ طبقے کو مہنگائی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں