اپوزیشن کے پاس موجودہ صورتحال کاحل ہوتوپیش کرے، ملیکہ بخاری

تحریک انصاف کی رہنماء ملیکہ بخاری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس معاملے کے حل کیلئے کوئی تجویز ہے تو سامنے لائے، ہم غور کریں گے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے ملیکہ بخاری نے کہا کہ اگر اپوزیشن معاملات کے حل میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو حکومت اس کا خیر مقدم کرے گی لیکن پاکستان مسلم لیگ نون اور جمعیت علمائے اسلام  کے موجودہ رویے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں حساس معاملات پر گفتگو نہیں ہوسکتی۔

ملیکہ بخاری نے کہا کہ وزیراعظم نے پیر کے روز اس معاملے پر عوام کو اعتماد میں لیا ہے جس دوران انہوں نے ٹی ایل پی کی بات سے اتفاق کیا تاہم اس کے طریقۂ کار کو غلط قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ سینئر وفاقی وزراء نے مذاکرات کیے تھے اور معاہدہ سفیر کو ملک سے نکالنے کا نہیں بلکہ معاملہ پارلمنٹ میں پیش کرنے کا طے پایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ اس وقت چوہدری سرور کی سربراہی میں مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن کیلئے شہریوں اور فوج نے جان کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر دنیا بھر کے مسلمان مل کر ایک مہم چلائیں گے تو اس میں وزن ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ نون کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر مدارس کے بچوں کے ذریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ن لیگی رہنماؤں کی ویڈیو موجود ہیں جن میں وہ لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی رہنماء نے کہا کہ پانامہ کیس میں دنیا نے دیکھا تھا کہ نوازشریف نے ملک کو 20 سال لوٹا اور عوام سے جھوٹ بولتے رہے۔

ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ تھر میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں، سندھ میں گندم چوہے کھا جاتے ہیں لیکن سندھ کے حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی رہنماء پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہمارے دور حکومت میں بھی اٹھا تھا لیکن ایک شخص کی بھی جان نہیں گئی اور معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرلیا گیا تھا۔

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شاید بھول گئے ہیں کہ جب ٹی ایل پی والے پہلی مرتبہ فیض آباد پر جمع ہوئے تو اس وقت ان کے کیا خیالات تھے، وہ اس وقت جلتی پر تیل چھڑک رہے تھے۔

پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا اور وزیراعظم کو پارلمنٹ سے قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر بھارت سے مہم چل رہی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں سڑکوں پر کیا ہورہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں یہ سب ہونے کے بعد آپ دنیا اور ایف اے ٹی ایف کو کیا کہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات کو دیکھ کر آدھے سے زیادہ حکومتی ترجمان بیمار ہوگئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں انارکی کی صورتحال ہے لیکن وزیراعظم نے آج بھی پارلمینٹ میں آنا پسند نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کم از کم آج کے دن وزیراعظم کو سیاسی پارٹیوں کو ٹارگٹ نہں کرنا چاہیے تھا۔

مسلم لیگ نون کی رہنماء عظمیٰ بخاری نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج وزیراعظم نے جو خطاب فرمایا وہ قوم سے نہیں بلکہ اپنی پارٹی سے تھا، معاملات ان کے تصور سے بھی زیادہ سنگین ہیں لیکن عمران خان خود سے باہر ہی نہیں نکل پا رہے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ انہیں ملک میں کوئی سنجیدہ نہیں لیتا لیکن وہ ہیں کہ دنیا کی بات کرتے رہتے ہیں۔

رہنماء ن لیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو اپنے بارے میں بہت غلط فہمی ہے اور وہ آج کے دن بھی نواز شریف کو نہیں بھول سکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ن لیگ پر الزام لگایا کہ ہم نے معاملے پر سیاست کی لیکن کیا ہمارا کوئی ایک رہنماء بھی کسی جلوس میں گیا یا کسی رہنماء نے کوئی بیان دیا ہو تو دکھادیں۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 2017ء میں کہا تھا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دھرنے میں جاکر بیٹھ جاؤں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ان کی پارٹی کے خلاف مذہب کارڈ استعمال کیا گیا، گھروں پر حملے ہوئے اور احسن  اقبال پر گولی چلائی گئی۔

رہنماء ن لیگ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پیغام آج بھی یہی ہے کہ ہمیں اس صورتحال کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کرنا۔

معاملات میں حکومت پنجاب کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب کی صوبائی حکومت کوڑا اٹھانے کے لائق نہیں، اس حساس صورتحال کو کیا سنبھالے گی۔

عظمیٰ بخاری نے توجہ دلائی کہ پچھلے 5 دنوں سے لاہور میں انٹرنیٹ سروس بند ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے طاہر القادری کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا اور بچوں کے سر پر کفن باندھ کر انہیں سڑکوں پر نکالا تھا۔

عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ معاملے کے حل میں ہم اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہیں، ہم نے کوئی اشتعال انگیزی نہیں کی اور ہماری گزارش یہ ہے کہ وزیراعظم باہر کی باتیں چھوڑیں ملک کے حالات پر نظر رکھیں۔

متعلقہ خبریں