ایرانی نیوکلیئر سائنسدان محسن فخری زادہ کاقتل کیسے کیا گیا؟

ایران کے جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ مہابادی کے قتل کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں واردات کی تفصیل اور کچھ انکشافات سامنے آئے ہیں۔

فخری زادہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایک افسر ، امام حسینؑ یونیورسٹی تہران میں فزکس کے پروفیسر اور انتہائی قابل جوہری سائنسدان تھے اور انہیں 27 نومبر 2020 کو صوبہ تہران کے شہر آبسرد میں سر راہ ایک ریموٹ کنٹرول حملے میں قتل کردیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا نے ایک برطانوی اخبار جوئش کرونیکل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ فخری زادہ کو قتل کرنے کی کارروائی میں ایک ٹن وزنی ہتھیار استعمال کیا گیا جسے کئی حصوں میں تقسیم کر کے اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے ذریعے ایران اسمگل کیا گیا۔

برطانوی اخبار کا لکھنا ہے کہ محسن فخری زادہ کی 8 ماہ تک ریکی کی گئی جس کے بعد 20 سے زائد مبینہ طور پر اسرائیلی اور ایرانی ایجنٹوں پر مشتمل گروپ نے ایرانی سائنس دان کو گھات لگا کر موت کی نیند سلا دیا۔

ایرانی میڈیا نے بتایا تھا کہ مسلح افراد نے 62 سالہ فخری زادہ کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے بعد وہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔ اپنے جوہری سائنس دان کی شہادت کے کچھ دیر بعد ایران نے کارروائی کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ اس بات کے شواہد ہیں کہ کارروائی میں اسرائیل کا کردار ہے۔

مغربی دنیا کو طویل عرصے سے یہ شبہہ ہے کہ فخری زادہ ہی جوہری بم تیار کرنے کے لیے ایران کے خفیہ پروگرام کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔

برطانوی اخبار کی کے مطابق ایران کا اندازہ ہے کہ فخری زادہ کا متبادل دستیاب ہونے میں 6 سال کا عرصہ لگ جائے گا۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فخری زادہ کی وفات سے ایران کو جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار عرصہ ساڑھے تین ماہ سے بڑھ کر دو برس تک چلا گیا ہے۔

رپورٹ کا کہنا تھا کہ موساد نے ایک چھوٹی پک اپ میں خود کار ہتھیار نصب کیا تھا۔ وہ ریموٹ کنٹرولڈ ہتھیار بہت بھاری تھا کیوں کہ وہ ایک ایسے بم کا حامل تھا جس نے قتل کی کارروائی کے بعد شواہد بھی برباد کر ڈالے۔ وہ حملہ اسرائیل نے امریکی مداخلت کے بغیر اکیلے ہی کیا البتہ امریکی ذمے داران کو اس کی پیشگی اطلاع تھی۔

متعلقہ خبریں