ایف اے ٹی ایف کاپاکستان کوگرے لسٹ میں برقراررکھنے کافیصلہ

FATF

فوٹو: ایف اے ٹی ایف

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2021ء تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیٹف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے 27 میں سے 24 پوائنٹس پر زبردست کام کیا ہے۔

منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو مزید جون 2021ء تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا ورچوئل اجلاس ختم ہوگیا، اگلا اجلاس جون 2021ء میں ہوگا، جس میں پاکستان کے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کیخلاف اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے، 27 میں سے 24 نکات پر عملدرآمد کرلیا، جون 2021ء میں کارکردگی کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی رپورٹ میں پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ پاکستان نے مربوط حکمت عملی سے کاؤنٹر فنانس ٹیررازم پر بہترین کام کیا، قانون نافذ کرنیوالے پاکستانی اداروں نے ٹیرر فنانس کی نشاندہی کی، اداروں نے ٹیرر فنانس کی جانچ پڑتال کرکے ان کیخلاف ایکشن بھی لیا۔

مزید جانیے: قومی اسمبلی، ایف اے ٹی ایف سے متعلق 4بل منظور

رپورٹ کے مطابق پاکستانی اداروں نے اثاثوں کو دوسری جگہ منتقل ہونے سے روکا بلکہ تحویل میں بھی لیا، پاکستان نے تمام ایکشن پلان پر ایک جامع لائحہ عمل اپنایا۔

دوسری جانب نجی تھنک ٹینک تباد لیب نے 2008ء سے 2019ء تک ہونے والے نقصانات پر مبنی رپورٹ جاری کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ کی وجہ سے پاکستانی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے، کڑی شرائط کے باعث 12 سال کے دوران 38 ارب ڈالر کا ممکنہ نقصان اٹھانا پڑا۔

ویڈیو: ایف اے ٹی ایف اجلاس، کیاپاکستان بلیک لسٹ ہوجائیگا؟

رپورٹ کے مطابق فیٹف کی جانب سے پاکستان کا نام بار بار گرے لسٹ میں شامل کرنے سے معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، سب سے زیادہ نقصان سرمایہ کاری، برآمدات، کاروبار اور حکومتی اخراجات میں کمی کی مد میں ہوا، 2012ء سے 2015ء کے دوران ملکی معیشت کو 13.4 ارب اور سال 2019ء میں 10.3 ارب ڈالر کا دھچکا لگا۔

ایف اے ٹی ایف کا ورچوئل اجلاس 22 سے 25 فروری تک جاری رہا، جس کیلئے وزارت خزانہ کی جانب سے ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق پاکستانی اقدامات سے متعلق رپورٹ ارسال کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 4 ماہ قبل 23اکتوبر 2020 کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام فروری 2021ء تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات پر نمایاں پیش رفت کی۔

متعلقہ خبریں