ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر برائے تونائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ کے حوالے سے فیٹف ایکشن پلان پر جلد عمل درآمد مکمل کر لے گا۔
فیٹف کے فیصلے کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نے پاکستان کو سات نکاتی نیا ایکشن پلان دیا ہے۔  ’نئے ایکشن پلان پر دو سال کے بجائے ایک سال کے اندر عمل درآمد کا ہدف ہے۔‘
حماد اظہر نے کہا کہ فیٹف نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں
ان کا کہنا تھا کہ نئے ایکشن پلان پر ایک سال کے اندر عمل درآمد کرنے کا ہدف ہے۔ ان کے مطابق گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایکش پلان پر مکمل عمل درآمد ہو۔
حماد اظہر نے یہ بھی بتایا کہ فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے، صرف ایک نکتہ رہ گیا ہے جس کو جلد پورا کر لیں گے۔
انہوں نے پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کے خطرے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جلد پاکستان وائٹ لسٹ میں چلا جائے گا۔
حماد اظہر نے یہ بھی وضاحت کی کہ پاکستان کے گرے لسٹ میں رہنے سے ملک پر کوئی پابندیاں نہیں لگیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ اے ایف ٹی ایف کے صدر نے پاکستان کے کردار کو مثالی قرار دیا ہے۔
بقول ان کے ’اگرچہ پاکستان گرے لسٹ سے نہیں نکل سکا تاہم عالمی سطح پر ملک کی کارکردگی کو تسلیم کیا گیا ہے۔‘
 انہوں نے بتایا کہ ’فیٹف کی جانب سے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں نے بہترین اقدامات کیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایکشن پلان جو پاکستان کو دیا گیا ہے اس کی نوعیت مختلف ہے۔
بقول ان کے پہلے والے ایکشن پلان میں فوکس دہشت گردوں کی مالی اعانت کے حوالے سے تھا جبکہ اب جو ایکشن پلان دیا گیا ہے اس کی ساری توجہ منی لانڈرنگ پر ہے۔

پاکستان گرے لسٹ میں رہے گا

قبل ازیں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کام کرنے والا بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پیرس میں پانچ روزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔
فیصلے کا اعلان ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے پانچ روزہ ورچوئل اجلاس کے اختتام پر کیا۔
اجلاس کے اختتام پر کی گئی پریس کانفرنس میں ادارے کے صدر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے متعدد ایریاز میں پیشرفت کی ہے لیکن اہم ایریاز میں پیشرفت میں ناکام ہوا ہے۔‘
انہوں نے ایشیا پیسیفک گروپ کی سفارشات کے بعد پاکستان کی کوششوں کو سراہا تو توقع ظاہر کی کہ مزید بہتری کے لیے حکومت پاکستان کوششیں جاری رکھے گی۔
پاکستان کو طویل عرصے سے گرے لسٹ میں برقرار رکھے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے اصول واضح ہیں، ان پر عمل نہ کر سکنے والوں کو لسٹ میں رہنا پڑے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ کا نیا ایکشن پلان دیا جا رہا ہے۔ 
اردو نیوز کی جانب سے انڈیا میں جوہری مواد کے پھیلاؤ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ایف اے ٹی ایف کے صدر نے کہا کہ ’میں اس معاملے پر میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہوں لیکن میں کسی ایسے نکتے پر بات نہیں کروں گا جس کا ابھی ہم نے جائزہ نہیں لیا ہے‘
 ’ایف اے ٹی ایف ملکوں کی اینٹی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے معاملات کا جائزہ لے کر ان پر کام کرتا ہے۔‘
انڈیا میں جوہری مواد کے پھیلاؤ اور میوچل ریویو سے متعلق اردو نیوز کےسوال پر مارکس پلیئر  نے کہا کہ ’کورونا وبا کی وجہ سے جوہری مواد کے پھیلاؤ والے ممالک کے جائزے کا عمل التوا کا شکار ہوا ہے۔ صورتحال بہتر ہوتے ہی اس کے لیے نیا شیڈول بنایا جائے گا جس میں انڈیا بھی شامل ہو گا۔‘
قبل ازیں ایف اے ٹی ایف کی ویب سائٹ پر اعلان کیا گیا تھا کہ جمعہ کی شام کو اجلاس کے خاتمے کے بعد نیوز کانفرنس کے ذریعے فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔

رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون تک کی مہلت دی گئی تھی۔ (فائل فوٹو: ٹوئٹر)
اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے کر گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کیا جانا تھا۔
رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون تک کی مہلت دی گئی تھی۔
اس وقت نیوز کانفرنس سے خطاب میں ایف اے ٹی ایف کے جرمنی سے تعلق رکھنے والے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے کہا تھا کہ ’پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو اعلیٰ سطح پر ایکشن پلان پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے، اس وقت پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جا سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے 27 میں سے 24 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے۔‘
فیصلے کے اعلان سے قبل پاکستانی حکام نے توقع ظاہر کی تھی کہ ملک کی کارکردگی دیکھتے ہوئے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
پاکستانی حکام کی اس امید کی ایک وجہ رواں ماہ کے شروع میں ایف اے ٹی ایف کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ کی طرف سے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کرنے کا اعلان بھی تھا۔ 
وفاقی وزیر برائے توانائی اور ایف اے ٹی ایف کے لیے پاکستان کے نگران وزیر حماد اظہر نے کہا تھا کہ ’یہ بڑے پیمانے پر قانونی اصلاحات کا نتیجہ ہے جو 14 وفاقی اور تین صوبائی قوانین میں کی گئی ہیں۔‘
ایشیا پیسفک گروپ کی دو جون کو جاری ہونے والی میوچل ایولیویشن کی جائزہ رپورٹ کے مطابق ’پاکستان نے یہ ریٹنگ ایف اے ٹی ایف کی 40 تکنیکی سفارشات میں سے 31 پر عمل درآمد کر کے حاصل کی تھی۔‘