ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے میں پاکستان کا اصل مسئلہ کیا؟

وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی سرمایہ کاری پر نظر رکھنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اس سال جون تک باہر نکل آئے گا۔
تاہم قانون سازی سے لے کر اقوام متحدہ کے مطلوب افراد کو سزائیں دینے تک پاکستان نے گزشتہ دو سالوں میں متعدد اقدامات کر لیے ہیں پھر بھی آخر کون سے ایسے نکات رہ گئے ہیں جو ابھی بھی حل طلب ہیں؟
اس حوالے سے اردو نیوز نے وفاقی وزیر صنعت کے علاوہ وزارت خارجہ، اور نیکٹا کے اعلی حکام سے بات کی ہے۔
مزید پڑھیں
یاد رہے کہ جمعرات کو ایف اے ٹی ایف نے اپنے تین روزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون 2021 تک کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 24 نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے اور اب جون تک اسے تین مزید نکات پر عمل درآمد کرنا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر کے مطابق تین بقیہ نکات میں نامزد شدت پسندوں اور ان کے مددگاروں پر مالی پابندیاں لگانا، دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کرنا اور ان کو سزائیں دلوانا شامل ہیں۔
بقیہ تین نکات کا مطلب کیا ہے؟
ایف اے ٹی ایف کی پریس ریلیز اور ان کے صدر کی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے نکات تکنیکی نوعیت کے ہیں جو عام فہم نہیں۔

حکام کے مطابق دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کو شدت پسندوں پر مالی پابندیاں مزید بہتر کرنا ہوں گی (فوٹو: ٹوئٹر حماد اظہر)
اس حوالے سے اردو نیوز کے استفسار پر پاکستانی حکام نے ان نکات کی وضاحت کی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا مطالبہ ہے کہ پاکستان لشکر طیبہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے رہنماوں اور کارکنوں کو سزائیں کی مدت بڑھائے۔
یاد رہے کہ پہلے ہی پاکستان میں انسداد دہشتگری عدالت نے کالعدم تنظیم کے سرکردہ رہنما ذکی الرحمن لکھوی کو چندہ اکٹھا کرنے اور کالعدم تنظیم چلانے کے کیس میں تین بار ساتھ چلنے والی پانچ سال سزا سنائی تھی۔ تاہم حکام کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے بقیہ نکات پر عمل درآمد کے لیے مزید رہنماوں کو مزید سخت سزائیں دینا ہوں گی۔
حکام کے مطابق دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کو شدت پسندوں پر مالی پابندیاں مزید بہتر کرنا ہوں گی۔ اس سے قبل بھی پاکستان نے کئی شدت پسندوں کے اکاونٹس منجمد کر رکھے ہیں تاہم ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس میں مزید سختی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تیسرا مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کی معالی معاونت کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف تفتیش اور تحقیقات کو مزید وسیع کیا جائے اور اس میں بہتری لائی جائے۔
ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کے نکتہ نظر میں فرق
اردو نیوز کے سوال پر کہ کیا ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کی جانب سے بقیہ نکات پر عمل درآمد کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے؟

حکام کے مطابق دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کو شدت پسندوں پر مالی پابندیاں مزید بہتر کرنا ہوں گی (فوٹو: اے ایف پی)
اس پر وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ یہ بات بہت اہم ہے اور انہوں نے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو وضاحت سے بتائے کہ اسے اب کیا کرنا ہے اور معاملات کو کھلا نہ چھوڑے بلکہ صاف صاف الفاظ میں اہداف واضح کیے جائیں۔
حماد اظہر کے مطابق ابھی اجلاس کے بعد انہیں امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے واضح اہداف پاکستان کو موصول ہو جائیں گے پھر ان کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔
پاکستان کے دیگر حکام نے بھی اردو نیوز کو بتایا کہ بعض معاملات پر ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کے نکتہ نظر میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔
ایک اعلی افسر کے مطابق ’ہمارا مخالف انڈیا ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں بیٹھا ہوتا ہے یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کا دشمن آپ کا امتحانی پرچہ چیک کر رہا ہو اور وہ آپ کے بات بات پر نمبر کاٹنے کے بہانے ڈھونڈے۔ ہمارے خیال میں ہم نے بقیہ تین نکات پر بھی ستر فیصد سے زائد عمل کر رکھا ہے مگر ان کے خیال میں عمل درآمد بیس تیس فیصد تک ہے۔
اب تک پاکستان کی کارکردگی
اسلام آباد میں نیکٹا، وزارت خارجہ اور وزات خزانہ کے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جنوری 2018 میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں آیا اور اسے اتنا سخت ایکشن پلان دیا گیا جو آج تک کسی ملک کو نہیں ملا۔

حماد اظہر کے مطابق اس ساری مشق سے ملک کو فائدہ بھی ہوا کہ ہمارا سسٹم دنیا کے کئی ممالک سے بہتر ہو گیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی میوچل ایوالیویشن جیسی دوہری نگرانی کا سامنا ہے اور پاکستان دونوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔
’جب ہمیں 27 نکاتی ایکشن پلان ملا تو اس وقت صرف ایک پر عملدرآمد کیا تھا۔ آج پاکستان نے 27 میں 24 ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا ہے۔  کورونا کے دوران کئی ملکوں نے رپورٹنگ نہیں کی لیکن پاکستان نے اپنی رپورٹنگ جاری رکھی‘۔
’اس دوران پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل کے لیے گیارہ سے زائد قوانین بنائے اور متعدد افراد کو سزائیں دیں، منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے بینکوں کو ہدایات جاری کی گئیں اور دیگر اقدامات کیے گئے۔ اس کے علاوہ ججوں اور دیگر حکام کی تربیت کی گئی۔ اس عمل میں پاکستان کی فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں، بینکوں اور مالیاتی اداروں اور صوبائی حکومتوں نے اپنا کردار ادا کیا۔‘
تاہم حماد اظہر کے مطابق اس ساری مشق سے ملک کو فائدہ بھی ہوا کہ ہمارا سسٹم دنیا کے کئی ممالک سے بہتر ہو گیا اور اس سے معیشت کو بھی فائدہ ہو گا۔