ایمیزون میں شمولیت: پاکستانی تاجروں کو کون سی سہولتیں ملنے جا رہی ہیں؟

دنیا میں آن لان شاپنگ کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ایمیزون کی جانب سے پاکسان کو سیلر لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹس میں فروخت کو آسان بنانے اور تاجروں کی سہولت کے لیے سٹیٹ بینک نے قواعد میں نرمی کا نیا فریم ورک تجویز کر دیا ہے۔
سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل مارکیٹ کو سہولت دینا ہے تاکہ ملک میں فارن کرنسی میں بین الاقوامی تجارت کرنے والوں کو آسانی ہو۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے قواعد کا فریم ورک پہلے نہیں تھا اب بنایا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
بقول ان کے سوموار کو سٹیٹ بینک نے اس حوالے سے پریس ریلیز کے ذریعے تمام سٹیک ہولڈرز کو نئی تجاویز سے آگاہ کیا ہے تاکہ ان قواعد کو سب کی مشاورت سے حتمی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ’پاکستان سنگل ونڈو پراجیکٹ‘ بھی شروع کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے پاکستان کسٹمز، سٹیٹ بینک اور دیگر بینکوں کو لنک کر کے تجارت کے لیے ایک ایسی سہولت دی جائے گی کہ ایک ہی جگہ پر تمام فارمز اور معلومات یکجا ہوں اور کاروباری افراد کو الگ الگ محکموں سے رابطے نہ کرنا پڑیں۔ سارا سنٹرل ڈیٹا بیس ایک لوکیشن پر ہوگا جہاں سے تمام ادارے اسے استعمال کر سکیں گے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق ’نئے فریم ورک کے ذریعے پاکستان سے مصنوعات کی برآمد کے لیے ضوابطی ہدایات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ جن کا مقصد موجودہ ہدایات کو سادہ بنا کر کاروبار کی آسانی کو فروغ دینا ہے۔ اہم ترین مجوزہ ترامیم میں بزنس ٹو بزنس ٹو کنزیومر (B2B2C) ای کامرس ماڈل کے تحت پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹس بشمول امیزون، ای بے، علی بابا کے ذریعے فروخت کرنے میں سہولت دینے کا فریم ورک شامل ہے۔‘

 ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے لیے ’پاکستان سنگل ونڈو پراجیکٹ‘ بھی شروع کیا جا رہا ہے (فوٹو: پکسابے)

ایمیزون اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اشیا بیچنے والوں کو کیا نئی سہولیات دی جا رہی ہیں؟

اس حوالے سے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے حکومت کی ای کامرس کونسل کے رکن بدر خوشنود نے سٹیٹ بینک کی جانب سے نئی تجاویز کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’نئی تجاویز کے مطابق ایمیزون پر اشیا فروخت کرنے والے اوپن اکاؤنٹ پر ٹرانزیکشن کر سکیں گے اور انہیں عام ایکسپورٹ کے لیے درکار لیٹر آف کریڈٹ یعنی خریدار کی طرف سے پے منٹ گارنٹی کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم ابھی ان تجاویز کی منظوری باقی ہے۔‘
’اسی طرح پہلے یہ شرط تھی کہ خریدار پاکستانی ایکسپورٹر کو 180 دن کے اندر ادائیگی مکمل کرے مگر چونکہ ایمیزون پر اشیا وئیر ہاوس پر رکھ کر بیچی جاتی ہیں اور تاخیر کا امکان ہوتا ہے اس لیے اس مدت کو بڑھا کر 270 دن تک کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح ایمیزون وغیرہ پر اشیا بیچنے والے اپنی لاگت کا 10 فیصد ڈالرز کی شکل میں باہر ہی رکھ سکتے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تجاویز سٹیٹ بینک اور ای کامرس کونسل کی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں اور اب سٹیٹ بینک نے اسے لارجر انڈسٹری سے مشاورت کے لیے پبلک کیا ہے۔

’نئی تجاویز کے مطابق ایمیزون پر اشیا فروخت کرنے والے اوپن اکاؤنٹ پر ٹرانزیکشن کر سکیں گے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
بدر خوشنود کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ای کامرس کونسل کی سفارش پر بی ٹو سی فریم ورک سٹیٹ بینک نے منظور کیا تھا اور دسمبر سنہ 2020 میں اس پر عمل درآمد شروع ہوا جس کے نتیجے میں اب تک 350 ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 25 لاکھ ڈالر تک تھی۔ اس کے علاوہ کونسل کی ہی سفارش پر گذشتہ سال جنوری میں سٹیٹ بینک نے فری لانسر کے لیے پاکستان آنے والے پیسوں کی حد پانچ ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار ڈالر تک کر دی تھی۔
بدر خوشنود  کے مطابق ’اب ایمیزون پر پاکستان کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس رعایتوں پر کام باقی ہے اور سٹیٹ بینک کی جانب سے خاصا کام مکمل ہو چکا ہے۔‘
سٹیٹ بینک کی جاری پریس ریلیز کے مطابق زرمبادلہ سے متعلق ہدایات میں حالیہ ترامیم برآمدات سے متعلق ہیں، جو زرمبادلہ مینوئل کے باب 12 میں دی گئی ہیں۔ یہ دستاویز سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ کے درج ذیل لنک پر دستیاب ہے، متعلقہ فریق اس پر اپنی آرا  دے سکتے ہیں۔
https://www.sbp.org.pk/epd/Draft-Chapter-12-Exports.pdf

پاکستانی برآمد کنندگان کو علی بابا کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں سہولت بھی فریم ورک شامل ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سٹیٹ بینک ایف مینوئل کے باب 12 (برآمدات) کے نظر ثانی شدہ مسودے میں کسی مناسب اضافے یا بہتری کے لیے کاروباری طبقے، بینکاری شعبے اور دیگر متعلقہ فریقین کی آرا اور تجاویز کی حوصلہ افزائی اور خیرمقدم کرتا ہے۔

ایمیزون پر اشیا فروخت کرنے کے لیے پاکستانی تاجروں کو کیا کرنا ہوگا؟

اس پلیٹ فارم پر فروخت کے لیے پاکستانی کاروباری افراد کو ایمیزون کا سیلر اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ خود کو یا اپنے کاروبار کو اس پر رجسٹرڈ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اپنی پراڈکٹ کے حوالے سے قیمت مقرر کریں گے پھر اپنی مصنوعات کی تصاویر اور تعارف اس پر ڈالنا ہوگا، جس کے بعد اپنی مصنوعات کو براہ راست یا ایمیزون وئیر ہاوس کے ذریعے گاہک تک پہنچانا ہوگا۔

سٹیٹ بینک کے مجوزہ فریم ورک میں پاکستانی تاجروں کی جانب سے ای بے کے ذریعے فروخت بھی شامل ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اس حوالے سے چونکہ مقابلہ دنیا بھر سے ہوتا ہے تو پھر پاکستانی شہریوں کو اپنی مصنوعات کا نہ صرف معیار بہتر کرنا ہوگا بلکہ ان کی مارکیٹنگ یعنی تصویری اور تحریری تعارف بھی بہترین کروانا ہوگا۔
پاکستان میں گوگل سمیت متعدد کمپنیوں سے منسلک رہنے والے بدر خوشنود کے مطابق اس حوالے سے ایمیزون سے حکومت کی بات چیت چل رہی ہے کہ پاکستانی بزنس مینوں کی تربیت کی جائے۔ پہلے تربیت کرنے والوں یعنی ماسٹر ٹرینر کی اپنی تربیت کی جائے تاکہ وہ پھر دوسروں کو یہ سب عمل سکھا سکیں۔