اینٹی وائرس سافٹ ویئر کمپنی کے بانی جان میکیفی جو صدر بنتے بنتے جیل پہنچ گئے

سنہ 1945میں برطانیہ کے علاقے گلوسٹرشائر میں پیدا ہونے والے جان ڈیوڈ میکیفی یوگا، ہلکے پھلکے جہازوں، جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات اور کمپیوٹر سافٹ ویئرز کے کاروبار سے ہوتے ہوئے امریکہ کے صدر بننا چاہتے تھے لیکن قسمت انہیں سپین کی ایک جیل میں لے گئی جہاں ان کا انجام ستم ظریفی کے عالم میں ہوا۔
انہوں نے سنہ 1987 میں میکیفی ایسوسی ایٹ کے نام سے ایک کمپنی قائم کی جس نے آگے چل کر اینٹی وائرس سافٹ وئیر تخلیق کیا لیکن میکیفی اپنی زندگی میں اس سے کہیں زیادہ حاصل کرنا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے کرپٹو کرنسی سمیت متعدد شعبوں میں قسمت آزمائی کی اور سنہ 2016 اور 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے لبرٹیرین پارٹی کی نمائندگی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ان کے مقدر میں کچھ اور تھا۔
مزید پڑھیں
یوں تو جان میکیفی کی زندگی کئی حوالوں سے دلچسپ رہی لیکن ان کے خلاف مقدمات اور قانونی لڑائیوں کی تاریخ کافی حاوی رہی اور ان کی موت بھی یہ جنگ لڑتے لڑتے ہوئی جب اس ہفتے 23 جون کو وہ بارسلونا کی بریانس 2 جیل میں مردہ پائے گیے۔ 
ان کے خلاف امریکی ریاست ٹینیسی سے وسطی امریکہ اور کیربیئن تک مقدمات قائم تھے اور گذشتہ سال اکتوبر میں انہیں بارسلونا ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت سے وہ جیل میں تھے اور اپنی امریکہ منتقلی کے متعلق سپین کی عدالت کے فیصلے کے منتظر تھے۔ 
جان میکیفی کی بارسلونا میں گرفتاری کے بعد اسی ماہ ٹینیسی میں ان کے خلاف الزامات عائد کیے گیے کہ انہوں نے اپنی زندگی پر ڈاکومینٹری کے حقوق فروخت کرنے، کنسلٹنسی کرنے اور لیکچرز دینے کی سرگرمیوں کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کیا۔   

جان میکیفی امریکی صدارتی انتخاب لڑنا چاہتے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی) 
اس سے قبل سنہ 2012 میں جان میکیفی بیلیزی جزیرے کے حکام کو ایک شخص گریگوری ویانٹ فاول، جن کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، کی موت کی تفتیش کے حوالے سے پوچھ گچھ کے لیے مطلوب تھے۔ 
اس وقت جان میکیفی اور گریگوری ویانٹ فاول دونوں اس جزیرے پر رہائش پذیر تھے۔ 
ان دنوں انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ’بیلیزین حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔‘
بیلیزین پولیس نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ان سے محض ایک جرم کی تفتیش کر رہے تھے جس کے متعلق جان میکیفی کو معلومات ہو سکتی تھیں۔ 
اس وقت کے بیلیزین وزیراعظم ڈین بیرو نے جان میکیفی کے متعلق شکوک ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان کے خیال میں میکیفی کے ذہن میں شدید خلل ہے حتٰی کہ وہ پاگل ہیں۔‘
فلوریڈا کی ایک عدالت نے سنہ 2019 میں جان میکیفی کو حکم دیا کہ وہ موت کے غلط دعوے کی وجہ سے گریگوری ویانٹ فاول کی سٹیٹ کو دو کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کریں۔ 

جان میکیفی کو گذشتہ سال اکتوبر میں بارسلونا ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسی سال جولائی میں ان کو ڈومینک ری پبلک میں پانچ دوسرے اشخاص کے ساتھ ایک کشتی میں بڑے اور فوجی طرز کے ہتھیار لے جانے کے شبے میں گرفتاری کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ 
جان میکیفی نے سنہ 2012 میں ’وائرڈ‘ میگزین کو بتایا تھا کہ ان کے والد بہت زیادہ شراب پینے والے اورایک ناخوش آدمی تھے، جنہوں نے خود کو اس وقت گولی مار دی تھی جب وہ 15 سال کے تھے۔
سنہ  2015میں انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں خود اپنے بارے میں کہا کہ وہ صرف مسلح ہونے کی صورت میں مطمئن رہتے ہیں۔
اس وقت اس ٹی وی سٹیشن نے رپورٹ کیا تھا کہ جان میکیفی نے وہ انٹرویو بھی اپنے دونوں ہاتھوں میں ’لوڈڈ گنز‘ رکھتے ہوئے دینا پسند کیا تھا۔
اس وقت ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بیڈ روم میں مسلح ہو کر اور دروازہ لاک کر کے رہنے کے علاوہ انہیں کوئی چیز تسلی نہیں دیتی۔   

2015 میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف مسلح ہونے کی صورت میں مطمئن رہتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
گذشتہ سال نومبر میں اپنی زندگی کے چند آخری انٹرویوز میں سے ایک میں انہوں نے برطانوی اخبار ’انڈیپینڈینٹ‘ کو کہا تھا کہ سپین کی جیل میں رہنے کا تجربہ ایک ’دلچسپ مہم جوئی‘ ہے اور ان کا امریکہ واپس لوٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔  انہوں نے ’انڈیپینڈینٹ‘ کو یہ بھی بتایا تھا کہ قیدی اور گارڈز ان کو پہچانتے ہیں اور کچھ نے ان سے آٹوگراف دینے کا بھی کہا ہے۔ 
سپین کے حکام کے مطابق جان میکیفی کی موت بدھ کو ان کو امریکہ بھجوانے کے ایک عدالتی فیصلے کے کچھ گھنٹوں بعد ہوئی۔
حکام کے مطابق ان کی موت کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم تمام شواہد کا اشارہ خودکشی کی جانب ہے۔ جان میکیفی کے شکاگو میں موجود وکیل نشے سانان کے مطابق سپین کے حکام نے انہیں ابھی تک ان کے موکل کی موت کی وجوہات نہیں بتائیں۔  نشے سانان کا کہنا ہے کہ ’میکیفی کو ہمیشہ ایک فائٹر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے ملک سے محبت کرنے کی کوشش کی لیکن امریکی حکومت نے ان کے وجود کو ناممکن بنا دیا۔‘
’انہوں نے اس کو مٹانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔‘