این اے 249:پیپلزپارٹی کےسواتمام جماعتوں کادوبارہ گنتی کابائیکاٹ

پہلا بیگ کھولا گیا تو وہ سیل نہیں تھا۔

کراچی میں این اے249 کے ضمنی انتخاب میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا پیپلزپارٹی کے سوا تمام جماعتوں نے بائیکاٹ کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن میں ووٹوں کی گنتی کا عمل مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ابتدا میں 30 امیدواروں میں سے 16 امیدوار گنتی کے عمل میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر مسلم لیگ نون کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے کہا کہ  امید ہے کہ یہ معاملہ یہیں حل ہوجائے گا اور خوشی ہےکہ ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہورہی ہے۔

ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے آدھے گھنٹے بعد ہی پیپلزپارٹی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں نے دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کیا اور الیکشن کمیشن سے باہر نکل آئے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ جب ووٹوں سے بھرا پہلا بیگ کھولا گیا تو وہ سیل نہیں تھا۔ جب سوال کیا گیا تو کہا گیا کہ سیل کہیں گر گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی نہیں بتایا جارہا ہے کہ پولنگ کے لیے کتنے بیلٹ پیپرز آئے تھے اور کتنے استعمال کئے گئے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ دوبارہ گنتی میں فارم 46 بھی نہیں دیا جارہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس جا کر دوبارہ احتجاج کریں گے۔ آر او کی جانب سے فارم 46 نہ دینا غیر قانونی ہے۔

ایم کیو ایم کے امیدوار سید مرسلین نے کہا کہ ایم کیوایم نے بھی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ فارم 46 کے بغیر ووٹوں کی گنتی بے معنیٰ ہے۔پی ایس پی کے امیدوار حفیظ الدین نے کہا کہ ہمارے سامنے بیلٹ باکس بغیر سیل کئے رکھ رہے تھے اس لئے دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کیا گیا۔ پی ٹی آئی امیدوار امجد آفریدی نے بھی دوبارہ گنتی سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ آراو ہمیں فارم46 دینے سے مسلسل انکاری ہے۔ کاؤنٹر فائلز اور ناقابل استعمال ووٹوں کے معائنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے ، اس لئے آراو کے اس رویے پر تمام جماعتیں دوبارہ گنتی کابائیکاٹ کررہی ہیں۔

دو روز قبل چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے این اے249 میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لیے (ن) لیگ کے مفتاح اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی تھی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد این اے 249 کراچی میں دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کی تھی۔

متعلقہ خبریں