این اے 249 ضمنی الیکشن: ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری

کراچی بلدیہ ٹاؤن کے حلقہ این اے 249 میں ضمنی انتخاب کے لیے آج جمعرات کو صبح 8 سے شام 5 بجے تک پولنگ ہوئی جس میں ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا۔
امیدواروں نے الیکشن کمیشن سے ووٹنگ ٹائم میں اضافے کی درخواست کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔ اس وقت ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور غیر حتمی نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔
فارم 45 سے مرتب کردہ تفصیلات کے مطابق 276 میں سے 32 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتائج موصول ہوئے ہیں جن کے مطابق ن لیگ کے امیدوار مفتاح اسماعیل 2215 ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل 1130 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
مزید پڑھیں
پی ٹی آئی کے امجد آفریدی 701 ووٹ لے کر تیسرے جبکہ پی ایس پی کے امیدوار مصطفی کمال 700 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر ہیں۔
دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے وقت سے پہلے نتائج نشر کرنے والے چینلز کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔
ڈائریکٹر الیکشن کمیشن الطاف احمد نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ایسے تمام چینلز کے خلاف پیمرا کو ہدایات جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
قبل ازیں پولنگ ڈے کے دوران تحریک انصاف اور ن لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے بارہا الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی اور پابندی کے باوجود پی ٹی آئی ممبران اسمبلی بشمول سابق اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے حلقے کا دورہ کیا جس کے باعث الیکشن کمیشن نے متعدد ممبران سندھ و قومی اسمبلی کو حلقہ بدر کرنے کے احکامات جاری کیے۔
صبح 8 بجے پولنگ کا آغاز ہونے کے بعد ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل بلاتعطل جاری رہا اور کہیں بھی تصادم یا بدمزگی دیکھنے میں نہیں آئی۔
حلقہ 249 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 30 ہزار ہے جن کے لیے مجموعی طور پر 276 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئےتھے۔
مردوں کے لیے 76 اور خواتین کے لیے 61 پولنگ سٹیشن، جبکہ مشترکہ پولنگ سٹیشن کی تعداد 139 تھے۔ البتہ حلقے میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا۔
الیکشن کمیشن کی جانب نے حتمی شرح تو فلحال نہیں بتائی گئی البتہ الیکشن مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرن آؤٹ 10 سے 15 فیصد رہنے کا امکان ہے، اس کے برعکس 2018 کے عام انتخابات میں اس حلقے کا ٹرن آؤٹ 40 فیصد تھا۔
ضمنی انتخابات میں عمومی طور پر ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے، تاہم رمضان، گرم موسم اور کورونا وباء کا پھیلاؤ وہ بنیادی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے۔

حلقے کے 92 پولنگ سٹیشنز کو حساس جبکہ 184 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انہی وجوہات کو بیان کرتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا تھا۔
ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم رہنے کی ایک اور بڑی وجہ ورکنگ ڈے میں ووٹنگ کا انعقاد تھا۔ استدعا کے باوجود الیکشن کو چھٹی والے دن نہیں رکھا گیا۔ گو کہ سندھ حکومت نے حلقے میں سرکاری سطح پر تعطیل کا اعلان کیا تھا تاہم حلقہ کے زیادہ تر آبادی متوسط اور مزدور طبقے پر مشتمل ہے جو روزگار اور نوکریوں کے لیے شہر کے دوسرے علاقوں کو جاتے ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ پولنگ سٹیشن پر مردوں کے مقابلے میں خواتین کی زیادہ تعداد ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے آئی تھی۔
مجموعی طور پر پولنگ منظم طریقے سے جاری رہی البتہ ایک پولنگ سٹیشن پر ریٹرننگ آفیسر نے وقت سے پہلے ہی فارم 45 پر پولنگ ایجنٹوں سے دستخط لیے تھے جس کی نشاندہی پر ان فارمز کو منسوخ کیا گیا۔ فارم 45 پر الیکشن کا نتیجہ پریزائیڈنگ افسر کو بھجوایا جاتا ہے اور اصل کے مطابق گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی پولنگ ایجنٹ تسلی کر کے اس پر دستخط کرتے ہیں۔
حلقے کے 92 پولنگ سٹیشنز کو حساس جبکہ 184 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ حلقے میں سکیورٹی کے لیے پولیس کے 2,800 اہلکار اور رینجرز کے 1,100 اہلکاروں کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ کیمروں سے مانیٹرنگ بھی کی گئی۔