این اے 249 : ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل جاری

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے249 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی آج بروز جمعرات کو ہورہی ہے۔

الیکشن کمیشن میں ووٹوں کی گنتی کا عمل مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ابتدا میں 30 امیدواروں میں سے 16 امیدوار گنتی کے عمل میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر مسلم لیگ نون کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے کہا کہ  امید ہےکہ یہ معاملہ یہیں حل ہوجائے گا اور خوشی ہےکہ ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑے گی تو بائیومیٹرک پر جائیں گے۔ پہلے سے درخواست تھی کہ پولنگ اسٹیشنز کا فرانزک بھی کرایا جائے اور ووٹ پر دستخط کی جانچ بھی کی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ 204 پولنگ اسٹیشنز پر جو برتری تھی وہ آج ثابت ہوجائے گی۔

دو روز قبل چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے این اے249 میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لیے (ن) لیگ کے مفتاح اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی تھی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد این اے 249 کراچی میں دوبارہ گنتی کی درخواست منظورکی۔

الیکشن کمیشن کے حکم نامے کے مطابق کراچی کے حلقہ این اے249 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی 6مئی کو صبح 9 بجے ریٹرنگ آفیسر کے آفس میں شروع ہوئی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے این اے249 کے حوالے سےفیصلہ 2گھنٹے قبل محفوظ  کرلیا تھا، نون لیگ کے امیدواد مفتاح اسماعیل نے حلقے میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست دی تھی۔

این اے249 کاحتمی نتیجہ جاری کرنے سے روک دیا گیا

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تصدیق شدہ فارم 45اور 46 نہ ہونے سے پورا الیکشن مشکوک ہوگیا، الیکشن کمیشن خود چاہے تو دستیاب مواد پر دوبارہ پولنگ کا حکم دے سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ بغیر کسی درخواست دوبارہ پولنگ کا جائزہ نہیں لےسکتے۔جس حد تک کیس ہے وہاں تک ہی محدود رہیں گے۔

این اے249: مصطفیٰ کمال نےدوبارہ پولنگ کی درخواست دیدی

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ پولنگ کے دوران مسلم لیگ نون لیگ نے کسی بھی فورم پر کوئی شکایت نہیں کی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ بے ضابطگیاں ہوئیں، نشاندہی کرنی ہوتی ہے کہ کہاں کیا بے ضابطگی ہوئی ہے۔

این اے249: تمام جماعتیں دھاندلی کے الزامات لگارہی ہیں، وزیراعظم

وکیل پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کرنے کا پابند نہیں۔

قبل ازیں سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفٰی کمال نے بھی الیکشن کمیشن میں این اے249 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیدی ہے۔

این اے249 کے نتائج، تبدیلی لانےوالوں کیلئےخود بڑی تبدیلی

واضح رہے کہ مسلم لیگ نون کے رہنماء مفتاح اسماعیل نے الیکشن کمیشن میں موقف اپنایا تھا کہ پریذائیڈنگ افسران کی جانب سے فارم 45 پر دستخط نہیں کیے گئے تھے جبکہ حلقے کے کے 167 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 پر دستخط موجود نہیں تھے۔

یاد رہے کہ 5 روز قبل الیکشن کمیشن نے کراچی کے حلقہ این اے249 کا حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکتے ہوئے تمام امیدواروں کو نوٹس جاری کیے تھے۔

متعلقہ خبریں