این اے249 میں رزلٹ سعیدغنی کے پاس پہنچتے تھے،عظمیٰ بخاری

رہنماء ن لیگ عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ن لیگ کو اگر حقیقت میں ہرایا جائے تو ہم شکست تسلیم کریں گے مگر کراچی کے ضمنی الیکشن میں ریٹرننگ افسران وزارت تعلیم سندھ حکومت کے ماتحت تھے اور وہ رزلٹ متعلقہ حکام کے بجائے براہ راست سعید غنی کو بھیجتے تھے۔

سماء کے پروگرام نیوز بیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنماء عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ این اے 249 میں پیپلزپارٹی 1984 کے بعد نہیں جیتی اور یہاں ن لیگ کا مضبوط ووٹ بینک ہے۔

انہوں نے کہا کہ حلقے میں 167 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 14 ہمیں نہیں دیئے گئے جبکہ 30 پولنگ اسٹیشنز میں آر او اور پولنگ ایجنٹ کے رزلٹ میں فرق ہے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حلقے میں ہمارا مقابلہ دو حکومتوں کے ساتھ تھا، انہوں نے کہا کہ جس دن تحریک انصاف والے حکومت کے بغیر الیکشن لڑنے نکل جائیں گے ان کو پتہ اصل حالات چل جائے گا۔

الیکشن اصلاحات سے متعلق انکا کہنا تھا کہ ہم مشینوں کا مزید رسک نہیں لے سکتے، آر ٹی ایس کا تجربہ ہمارے سامنے ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو اصلاحات کی اتنی جلدی کیوں ہے۔

رہنماء پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 249 میں ماضی میں بھی پیپلزپارٹی کو ووٹ ملتے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے علاوہ بھی اکثر پارٹیوں کی پوزیشن اوپر نیچے ہوئی ہے۔

الیکشن سرویز سے متعلق انکا کہنا تھا کہ اگر ہار جیت کا فیصلہ سروے پر ہونا ہے تو پھر الیکشن کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہمیں پتہ تھا کہ اس نشست پر الیکشن ہونا ہے اس لئے ہم نے علاقے میں ترقیاتی کام کئے تھے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پچھلے الیکشن میں جھنگ اور بدین کے نشستوں پر ہمارا مارجن بھی 5 فیصد سے کم تھا مگر وہاں پر دوبارہ گنتی کی ہماری درخواست مسترد کردی گئی تھی۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنماء تحریک انصاف عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن میں ہمارے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے، وزیرآباد میں ہمارے ووٹوں میں 27 ہزار جبکہ ڈسکہ میں 34 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کو جتنے ووٹ پنجاب سے ملتے ہیں، اس سے زیادہ تو محلے کے کونسلرز کو ملتے ہیں، این اے 249 میں پیپلزپارٹی کا نام و نشان نہیں تھا مگر انہوں نے الیکشن پر ڈاکا ڈالا۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ ہماری بھی 15 سیٹیں آر ٹی ایس کی نذر ہوچکی تھی، میں خود آر ٹی ایس بند ہونے سے پہلے جیت رہا تھا بعد میں ایک ہزار ووٹ سے ہار گیا۔

رہنماء تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ موجودہ الیکشن سسٹم پر تمام پارٹیوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ الیکشن اصلاحات کرنے ہے یا 2023ء الیکشن کے بعد بھی یہی کہیں گے کہ دھاندلی ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں