ایکسپورٹ پروسسنگ زون میں فیکٹری کیوں گری؟

چار جون کو لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی (ای پی زیڈ اے) کے سیکٹر بی سیون میں واقع ایک فیکٹری، جو بشری انڈسٹریز کی ملکیت تھی، کے دومنزلیں گرگئیں اور تین مزدور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے وقت فیکٹری میں ایک کنٹینر کھڑا تھا جس میں سامان منتقل کیا جارہا تھا تاہم کنٹینر کے ڈرائیور نے کوشش کر کے اپنی گاڑی کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔ جس کے بعد بلڈنگ اچانک گرگئی۔

حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پہنچی اور لفٹر آپریٹر رضوان کو زخمی حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کر دیا۔ فیکٹری کے چوکیدار ظہور احمد کی لاش اگلے دن نکال لی گئی۔

رضوان نے بتایا کہ جب فیکٹری گری تو اس وقت ایک مزدور احسان موجود تھا۔ احسان زندہ ہوگا، اس خیال سے ریسکیو کے عمل کو احتیاط سے جاری رکھا گیا مگر چار دن گزرنے کے بعد امدادی ٹیمیں احسان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں تو وہ انتقال کرچکا تھا۔

حادثے کے فورا بعد ابتدائی اطلاع آئی کہ ایک کنٹینر ای پی زیڈ اے میں واقع ایک فیکٹری میں گھس گیا جس کے بعد پوری فیکٹری زمین بوس ہو گئی لیکن معائنے کے بعد اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ کنٹینر حادثے کے وقت فیکٹری میں ہی کھڑا تھا۔ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فیکٹری میں کام کرنے والا لفٹر ایک پلر سے ٹکرا گیا لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا لفٹر ٹکرانے سے فیکٹری کی عمارت گر سکتی ہے؟

اس حادثے کے اسباب جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ متاثرہ فیکٹری کس کی ملکیت ہے اور اس میں کیا کام ہوتا ہے۔

ای پی زیڈ اے کے سیکٹر بی سیون میں واقع متاثرہ فیکٹری بشری انڈسٹریز کا حصہ ہے اور اس فیکٹری میں بیرون ممالک سے درآمد کیے گئے لنڈے کے کپڑوں کو چھانٹی کے مارکیٹ میں فروخت کردیا جاتا ہے۔

حادثے کے اسباب جاننے کے لیے سماء ڈیجیٹل نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور موقع پر موجود ای پی زیڈ اے افسران اور فیکٹری ورکز سے بات کی۔

دوران تفتیش پتا چلا کہ بشری انڈسٹیریز نے ابتدا میں ای پی زیڈ کے سیکٹر بی سیون میں پلاٹ نمبر گیارہ اور بارہ خریدا۔ 2019 میں بشری انڈسٹریز کے ساتھ واقع سوئس پیکیجنگ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ ای پی زیڈ اے کے ترجمان ملک عبدالعزیز نےبتایا کہ سوئس پیکجنگ کے مالک نے آتشزدگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی خسارے کے پیش نطر فیکٹری بشری انڈسٹریز کو بیچ دی۔

ترجمان کے مطابق سوئس پیکجنگ میں جب آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تو فیکٹری میں پڑا پلاسٹک کا سارا سامان جل گیا لیکن فیکٹری کی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

متاثرہ فیکٹری کے قریب واقع ایک اور فیکٹری کے چوکیدار نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا چھ ماہ قبل بشری اندسٹریز کے مالک نے فیکٹری کی چھت کاٹ کر اونچی کی اور اس کے اوپر مزید تعمیرات کیں۔ چوکیدار کے مطابق اس حادثے میں بھی فیکٹری کا وہ حصہ گرا جہاں نئی تعمیرات کی گئی تھی۔ دوسری طرف ای پی زیڈ اے افسران کا کہنا ہے کی ان کو اس بات کی خبر نہیں کہ بشری انڈسٹریز کے مالک نے فیکٹری خریدنے کے بعد اس عمارت کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی کی ہے۔

ترجمان ای پی زیڈ اے کے مطابق امکان ہے کہ فیکٹری مالک نے فیکٹری کے ڈھانچے میں تبدیلی کی ہو کیوں کہ لنڈے کی فیکٹری اور پیکنگ کی فیکٹری کے ڈھانچے میں کافی فرق فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لنڈے کی فیکٹری کی چھت اونچہ ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے فیکٹری مالک نے پہلے سے موجود ڈھانچے میں تبدیلیاں کی ہوں۔

ای پی زیڈ اے کے سیکریٹری ناصر ہدایت خان، جو انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بھی ہیں، نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ بشری انڈسٹریز کے مالک نے پیکنگ کی فیکٹری خریدنے کے بعد کنسٹرکشن انجینیئر سے عمارت کا تفصیلی جائزہ کروایا اور اپنا نیا ڈیزائن ای پی زیڈ اے کے انجینیئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروایا۔

ای پی زیڈ میں فیکٹری کی تعمیر کے مراحل بتاتے ہوئے ناصر ہدایت خان نے بتایا کہ فیکٹری مالک کنسٹرکشن انجینیئر کی مدد سے ڈیزائن تیار کر کے انجینیئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرواتا ہے اور اس کے بعد عمارت کی ساخت اور پائیداری کا زمہ داربھی وہ ہی کنسٹرکشن انجینیئر ہوتا ہے۔

سیکریٹری ای پی زید اے سے جب سوال کیا گیا کہ کنسٹرکشن انجینیئر کی جانب سے جمع کروائے گئے ڈیزائن کی جانچ کیسے کی جاتی ہے تو انہوں نے بتایا کہ ڈیزائن کی جانچ نہیں کی جاتی کیوں کہ ای پی زیڈ اے کو کنسٹرکشن انجینیئر کی خدمات حاصل نہیں۔

ای پی زیڈ اے میں فیکٹری گرنے کے واقعے نے اتھارٹی واقع فیکٹریوں کی فٹنس اور ان فیکٹریوں میں کام کرنے ملازمین کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں