ایک اداکار اچھا کردار اور پرفارمنس کا مارجن چاہتا ہے: لیلی واسطی

سوشل میڈیا پر جہاں کئی ڈراموں پر تنقید کی جاتی ہے اور’متنازع‘ مواد کی وجہ سے ان کے خلاف پیمرا سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہیں صارفین اپنے پسندیدہ ڈراموں کی پذیرائی کرتے بھی نظر آتے ہیں اور بعض اوقات تو کوئی ڈرامہ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بھی بن جاتا ہے۔
گذشتہ کچھ دنوں میں جو ڈرامہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈز کی فہرست میں شامل رہا وہ ہے ’ڈنک۔‘
مزید پڑھیں
اس ڈرامے میں مرکزی کرداروں کے ساتھ ساتھ جس کردار نے ناظرین کو متاثر کیا ہے وہ ہے حیدر (بلال عباس) کی والدہ کا جسے نبھا رہی ہیں مشہور اداکارہ لیلی واسطی جو سچ اور جھوٹ کی جنگ میں اپنے شوہر کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑی ہیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے لیلی واسطی نے کہا کہ’ایک اداکار کو کیا چاہیے ہوتا ہے؟ یقیناً ایک اچھا کردار اور پرفارمنس کا مارجن۔ مجھے جب بھی کوئی کردار آفر ہوتا ہے تو میں دیکھتی ہوں کہ میرا کردار کہانی میں کتنی اہمیت کا حامل ہے  اور مجھے اپنی پرفارمنس دکھانے کا کتنا موقع ملے گا۔‘
لیلیٰ واسطی نے بتایا کہ ’جب مجھے ڈائریکٹر بدرمحمود نے اس کردار کے لیے کال کی تو میں نے سکرپٹ پڑھے  بغیر ہی ہاں کر دی، عموماً میں ایسا نہیں کرتی لیکن بدر محمود کو فوری ہاں کہنے کی وجہ یہ تھی کہ میں ان کے کام کی بہت بڑی مداح ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ مسئلہ نہیں کہ میرے پانچ سو سین ہوں اور ہر قسط میں ،میں ہر حال میں نظر آؤں۔ اب ڈنک ڈرامے کو ہی دیکھ لیں اس میں میرے ایسے سینز ہیں جو پوری پوری قسط پر بھاری ہیں۔ مجھے اداکارہ روبینہ اشرف کی تعریف کی کال آئی، سہیل اصغر نے مجھے میسج کیا اور کہا کہ تم نے بہت اچھی اداکاری کی ہے۔‘

لیلی واسطی کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ مسئلہ نہیں کہ میرے پانچ سو سین ہوں اور ہر قسط میں ،میں ہر حال میں نظر آؤں‘ (سکرین گریب)
ڈنک ڈرامہ ہراسانی کے جھوٹے الزامات پر مبنی ہے جس میں ایک طالبہ اپنے پروفیسر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔ لیلیٰ واسطی کہتی ہیں کہ ’مجھے کبھی بھی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مجھے تو امی ابو کی شہرت کی وجہ سے ہر کوئی عزت دیتا تھا۔’
لیلی واسطی آج کل ٹی وی سکرین پر مختلف ڈراموں میں نظر آ رہی ہیں، اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت میرے تین ڈرامے ستم، آزمائش اور ڈنک آن ایئر ہیں حالانکہ یہ تینوں ڈرامے مختلف وقتوں میں شوٹ ہوئے لیکن کورونا کی وجہ سے نشر ہونے سے رہ گیا اور اب تینوں ہی ایک ساتھ آن ائیر ہو گئے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘
لیلیٰ واسطی نے شوبز انڈسٹری سے دس سال کی ’بریک‘ کے بعد کام دوبارہ شروع کیا، وہ کینسر کےموذی مرض میں مبتلا ہو گئی تھیں اور علاج کی غرض سے امریکہ میں مقیم تھیں۔
انہوں نے مکمل صحتیابی کے بعد وطن واپسی کی اور وہ تین چار سال سے کراچی میں ہی رہ رہی ہیں اور ڈراموں میں کام کررہی ہیں۔
لیلی واسطی نے بتایا کہ’میری بہت ساری سرجریاں ہوئیں، شدید تکلیف میں رہی لیکن مجھے میرے اللہ پر یقین تھا کہ میں صحتیاب ہوجاؤں گی۔ میں نے بیماری کے دوران ہمت نہیں ہاری، نہ ہی مایوس ہوئی۔ ایسے وقت میں دو ہی راستے ہوتے ہیں یا مثبت ہوجائیں یا منفیت کو اپنائیں۔‘

لیلی واسطی کے اس وقت تین ڈرامے ڈنک، ستم اور آزمائش آن ایئر ہیں (فوٹو: سکرین گریب)
لیلیٰ واسطی بتاتی ہیں کہ وہ جتنی مشکل میں رہیں ان کے شوہر نے ان کا بہت زیادہ ساتھ دیا پل پل ان کا خیال رکھا، وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کا ساتھی سپورٹ کرنے والا ہو تو جینے کی امنگ بھی بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’بیماری کے دوران اداکار عمران عباس نے میرے لیے بہت کالز کیں۔ میں لاس اینجلس میں تھی اور پاکستان اورلاس اینجلس کے وقت میں بارہ گھنٹے کا فرق ہے اور ہر بارہ گھنٹے کے بعد عمران عباس میرے شوہر کو کال کرکے میری خیریت دریافت کیا کرتے تھے۔‘
ڈراموں پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے لیلیٰ نے کہا کہ ’ضروری نہیں ہے کہ مجھے نیلا رنگ پسند ہے تو کالا ہو ہی نہیں سکتا۔ جن ڈراموں پر تنقید کی جارہی ہے انہیں کی ریٹنگ اٹھا کر دیکھ لیں تو لوگوں کی بڑی تعداد ان کو دیکھ رہی ہے۔ ہر قسم کا ڈرامہ بنا رہا ہے، سسپنس ، کامیڈی، رومانس، ایسے موضوعات پر بھی ڈرامے بن رہے ہیں جن پر بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔‘
لیلی واسطی کامیڈی کرداروں میں کم نظر آئی ہیں، اس کی کیا وجہ رہی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’میں نے دو تین چھوٹے چھوٹے کامیڈی کے سنگل پلیز کیے تھے۔ ابھی بھی کوئی اچھا پراجیکٹ ملا تو یقیناً کروں گی لیکن ایک بات ضرور کہوں گی کہ کامیڈی بہت ہی مشکل کام ہے۔‘

لیلی واسطی کہتی ہیں کہ جن ڈراموں پر تنقید کی جارہی ہے انہیں کی ریٹنگ اٹھا کر دیکھ لیں تو لوگوں کی بڑی تعداد ان کو دیکھ رہی ہے (سکرین گریب)
لیلیٰ واسطی کا ماننا ہے کہ لڑکیاں ہمت اور جرات والی ہوتی ہیں وہ اپنے والدین کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں ان کے والدین ان کو ہمت دیتے ہیں اعتماد دیتے ہیں اور جن لڑکیوں کو دبا کر رکھا جاتا ہے گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا وہ ڈری سہمی رہتی ہیں۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز تک نہیں اٹھا پاتیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’پروفیشن کوئی بھی برا نہیں ہوتا، ہر جگہ اچھے برے لوگ ہوتے ہیں، مجھے بہت شکایت ہے کہ آج کل یوٹیوب پر لوگ الٹی سیدھی اور جھوٹی سچی ویڈیوز بنا کر ڈال دیتے ہیں اور باقاعدہ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں اداکار یا اداکارہ کس حال میں ہے اب کلک کریں تو کچھ بھی نہیں ہوتا،ایسا نہیں ہونا چاہیے ہر کسی کو کام ایمانداری سے کرنا چاہیے۔‘