ایک سیاستدان اور سول سرونٹ کا تعلق، قانون کیا کہتا ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی رواں ہفتے سیالکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد دونوں شخصیات کے حمایتی سوشل میڈیا پر اس واقعے کی اپنی اپنی توجیحات پیش کر رہے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان کے حق میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی چلتا رہا جس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت کی رائے ہے کہ سرکاری افسران عوام کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اس لیے ‘افسر شاہی’ کے ساتھ ایسے ہی پیش آنا چاہیے۔ تاہم اپوزیشن سمیت رائے دینے والوں کی ایک اور بڑی تعداد کا خیال ہے کہ فردوش عاشق اعوان کو عوامی سطح پر ایک سول سرونٹ سے اس طرح پیش نہیں آنا چاہیے تھا اور لہجے اور الفاظ کا چناؤ ’بہت غلط‘ تھا۔
مزید پڑھیں
اس واقعے کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے اسٹنٹ کمشنر کے ساتھ ‘غیر اخلاقی برتاؤ’ کی مذمت کی تو اس پر بھی اعتراضات سامنے آئے کہ ایک سرکاری ملازم کو حکومت کے خلاف بیان نہیں دینا چاہیے۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے قانونی ماہرین اور سینیئر بیوروکریٹس سے بات کی ہے۔
ایک سابق کابینہ سیکرٹری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سول سرونٹس قوانین کے مطابق ہی کام کرتے ہیں اور اگر خلاف قانون کام کریں تو ان کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار موجود ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدیداروں کو بھی سول سرونٹس کے ساتھ قانون کے مطابق ہی پیش آنا چاہیے اور ذاتی تضحیک سے گریز کرنا چاہیے۔
سول سرونٹس کے کوڈ آف کنڈکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘گورنمنٹ سرونٹ کنڈکٹ رولز 1964’ میں سب کچھ تحریری طور پر موجود ہے کہ ایک سول سرونٹ کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا۔‘

فردوس عاشق اعوان کی اسسٹنٹ کمشنر سے تلخی کی ویڈیو وائرل ہونے پر صارفین نے اپنی اپنی رائے دی۔ فوٹو: ویڈیو گریب

’سول سرونٹس ایسی بات نہیں کہہ سکتے جس سے حکومت شرمندہ ہو‘

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ‘گورنمنٹ سرونٹ کنڈکٹ رولز 1964’ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ سرکاری ملازمین یا سول سرونٹس قانون کے تحت ایسی کوئی بات نہیں کر سکتے جس سے حکومت کو شرمندگی اٹھانا پڑے۔
رولز کے سیکشن 22 کے مطابق کوئی سرکاری ملازم کسی دستاویز میں یا پریس کے ساتھ کسی طرح کی بات چیت میں یا ٹی وی یا ریڈیو پروگرام میں ایسے حقائق بیان نہیں کر سکتا جس سے حکومت شرمندہ ہوتی ہو۔ صرف تحقیقی مقاصد کے لیے کام کرنے والا ٹیکنیکل سٹاف ایسی معلومات کو مرتب کر سکتا ہے مگر اس میں کوئی سیاسی رائے نہیں شامل ہونی چاہیے۔
اسی طرح سیکشن 29 کے مطابق کوئی سرکاری ملازم اپنے کسی دعوے کی سچائی کے لیے بیرونی، سیاسی یا کسی قسم کا اثر ورسوخ استعمال نہیں کر سکتا۔

حکومتی رہنما سول سرونٹس کی توہین نہیں کر سکتے

سول سرونٹس تو قواعد کے تحت ضابطہ کار کے پابند بنا دیے گئے ہیں تاہم قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق سیاستدانوں اور حکومتی وزرا کو بھی کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ سول سرونٹس یا سرکاری ملازمین کی توہین کریں۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر سڑک پر آگاہی مہم کے دوران شہریوں کو ماسک لگانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ فوٹو: ویڈیو گریب
سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ جب نوازشریف 1997 میں وزیراعظم تھے تو انہوں نے فیصل آباد کے دورے کے دوران فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تین افسران کو ایک کھلی کچہری کے دوران ہتھکڑیاں لگوا کر گرفتار کرا دیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر سرکاری ملازمین کو رہا کر دیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا تھا۔
سینیئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کے مطابق ’قانون میں سیاستدانوں یا ارکان اسمبلی کا سول سرونٹس پر کوئی حق نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے تین ستون ہیں، پارلیمنٹ، عدلیہ، اور انتظامیہ۔ سب کا علیحدہ علیحدہ کام ہے اور ہر ایک کے اپنے اپنے قوانین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے انیتا تراب کیس میں واضح رہنمائی کی ہے  کہ کوئی سول سرونٹ کسی وزیر یا حکومتی عہدیدار کے زبانی احکامات کا پابند نہیں۔ حکومتی عہدیداران کو لکھ کر کسی بھی حوالے سے احکامات جاری کرنا ہوں گے۔ زبانی احکامات کی کوئی حثییت نہیں ہے۔
سنیئیر وکیل رہنما کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ اگر کسی حکومت عہدیدار کو کسی اسسٹنٹ کمشنر سے شکایت ہو تو وہ اس کے سنیئیر کو شکایت لگا سکتا ہے جیسے کہ ڈپٹی کمشنر یا سیکرٹری مگر  تضحیک کا اختیار کسی کو نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’نہ سرکاری ملازموں کو اجازت ہے کہ وہ سیاستدانوں کے ساتھ بدتمیزی کریں اور نہ ہی وزرا کو حق ہے کہ سرکاری ملازمین کی سرعام توہین کریں۔‘