ایک مفرورکا ضمانتی خود ضمانت لے گیا، علی نواز خان

وزیراعظم کے معاؤن خصوصی علی نواز اعوان نے شہباز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اس شخص کو ضمانت مل گئی جو خود کسی مفرور کا ضمانتی ہے۔

سماء کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے علی نواز خان کا کہنا تھا کہ ہم جوڈیشل ریفارمز پر کام کررہے ہیں لیکن انصاف ہوتا ہوا بھی تو نظر آنا چاہیے۔

رہنماء تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے جس شخص کی ضمانت دی تھی وہ واپس آنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف سے یہ سوال کیا جانا چاہئے تھا کہ جس کی پہلی ضمانت دی تھی خود باہر جانے سے پہلے اسے تو واپس لادو۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر 7 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے مگر ان کو میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت مل گئی جبکہ ان سے جب بھی منی لانڈرنگ سے متعلق سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیٹا جواب دے گا اور جب بیٹے کا پوچھا جاتا ہے تو بتاتے ہیں وہ تو لندن میں ہے۔

علی نواز اعوان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو اپنی اصلاح خود کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے اور اپوزیشن اصلاحات کرنے نہیں دے رہی کیونکہ وہ اس نظام سے مستفید ہو رہی ہے۔

وزیراعظم کی سفراء سے خطاب سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ تنقید کس بات پر ہورہی ہے کیا بیرون ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں کی کاردکردگی تسلی بخش ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی سفراء کو کارکردگی بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور خراب کارکردگی پر سعودی عرب میں سفیر کو ہٹایا گیا لیکن ہمیں مزید فعال ہونا پڑے گا۔

رہنماء تحریک انصاف نے کہا کہ تنقید کے ساتھ ہماری کارکردگی سے لگنا چاہیے کہ ہم معاملات کے حل میں سنجیدہ ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنماء مسلم لیگ ن ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ضمانت کے بعد شہباز شریف کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے، بلیک لسٹ کیا جانا اس حکومت کا غیر قانونی اقدام تھا۔

نواز شریف کی ضمانت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے حکومتی ترجمان غلط بیانی کرتے ہیں نواز شریف کے ضمانت میں توسیع کو ڈاکٹر کی رائے سے مشروط کیا گیا تھا۔

ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو ہر سال علاج کیلئے باہر جانا پڑتا ہے اور وہ مطلوبہ علاج پاکستان میں میسر نہیں۔

ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت جوڈیشل ریفارمز کرنا چاہتی ہیں تو ابتداء تو کریں ڈھائی سال میں یہ حکومت کچھ نہیں کرسکے، حکومتی ترجمان کسی ایک قانون کو یہ کہتے ہیں کہ یہ جوڈیشل ریفارمز ہے اسکا مطلب حکومتی رہنماؤں کو ریفارمز کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔

عمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ خود احتسابی نہیں ہے بلکہ خود کش حملہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرمایہ کاری حکومت کی پالیسی کی بدولت ہوتی ہے لیکن اگر سفارتخانوں کی غلطی ہو تو اسے ضرور دیکھنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کے سفراء کی اس طرح تذلیل کرنا مناسب نہیں ہے اگر حکومت بیرونی ممالک کے پاکستانی مزدوروں کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو پالیسی دے کیوں کہ محض میڈیا پر بیانات سے سفیروں کی تضحیک ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں