ایک کال پر لاکھوں کا نقصان، پشاور میں جعل ساز نے خاتون کے نام پر بینک سے قرض لے لیا

خاتون کا کہنا تھا کہ ’جعل ساز نے ان کے اکاؤنٹ سے 10 لاکھ 82 ہزار روپے نکال لیے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پشاور میں ایک شخص نے فراڈ کر کے ایک خاتون کے بینک اکاؤنٹ سے نہ صرف 10 لاکھ 82 ہزار روپے نکال لیے بلکہ ان کے نام پر 5 لاکھ 45 ہزار روپے کا قرض بھی حاصل کر لیا۔
پشاور سیشن کورٹ میں متاثرہ خاتون کی درخواست پر کیس کی سماعت کے دوران خاتون نے عدالت کو بتایا کہ 6 جولائی کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی تھی۔
خاتون کے مطابق ’نامعلوم کالر نے خود کو بینک کی ہیلپ لائن کا نمائندہ ظاہر کیا اور اے ٹی ایم پن اور دیگر تفصیلات پوچھیں جو میں نے فراہم کر دیں۔‘
مزید پڑھیں
خاتون کا کہنا تھا کہ ’کچھ ہی دیر بعد ان کے اکاؤنٹ سے 10 لاکھ 82 ہزار روپے نکال لیے گئے، متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ’ان کے اکاؤنٹ سے 5 لاکھ 45 ہزار روپے کا قرض بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔‘
خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے بینک اور ایف آئی اے ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔
مقامی عدالت نے سماعت کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔ 
درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ نعمان محب کاکا خیل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس کیس میں بینک مینیجر اور جن اکاؤنٹس پر رقم کی منتقلی ہوئی ہے اُن کو فریق بنایا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی رقم تصدیق کے بغیر کیسے منتقل ہو گئی؟‘
ایف آئی اے حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس قسم کے واقعات آج کل زیادہ پیش آرہے ہیں لہٰذا شہریوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کسی بھی کالر کو فون پر ضروری معلومات فراہم کرنے سے پہلے تصدیق کر لیں۔‘