بائیڈن اور پوتن کی پہلی ملاقات، ’پوری میٹنگ کا لہجہ اچھا، مثبت تھا‘

امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کے روز پہلے سربراہی اجلاس میں اسلحہ کنٹرول سے متعلق بات چیت دوبارہ شروع کرنے اور رواں سال کے شروع میں ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفیروں کی واپسی پر اتفاق کیا۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور روس کے صدر ولایمیر پوتن کے درمیان جنیوا میں ملاقات ہوئی، گذشتہ برس نومبر میں صدر منتخب ہونے کے بعد جو بائیڈن کی اپنے روسی ہم منصب سے یہ پہلی ملاقات تھی۔
مزید پڑھیں
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز کہا کہ ’ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنے پہلے سربراہی اجلاس میں ہونے والی بات چیت ’مثبت‘ تھی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے اپنے روسی ہم منصب کو متنبہ کیا کہ واشنگٹن امریکی جمہوریت میں مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔‘
بائیڈن نے سربراہی اجلاس کے اختتام پر صحافیوں کو بتایا کہ ’پوری ملاقات کا لہجہ … اچھا، مثبت تھا۔‘
’وہاں کوئی سخت بات نہیں کی گئی۔‘
جو بائیڈن سے ملاقات کے بعد ولایمیر پوتن نے کہا کہ بات چیت مکمل طور پر تعمیری رہی ہے اور دونوں ممالک نے تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے اپنے سفیروں کو ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات جنیوا جھیل کا نظارہ دینے والے ایک خوب صورت ولا میں ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کشیدگی برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے، اور بائیڈن نے تسلیم کیا کہ ’دونوں کے درمیان متعدد اختلافات پائے جاتے ہیں۔‘
واشنگٹن کی روس کی سائبر سرگرمی کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک بڑی شکایت رہی ہے، اس کا کہنا ہے کہ ’روس کی جانب سے امریکی انتخابات میں مداخلت کی جاتی ہے چاہے وہ روسی سکیورٹی سروسز کے ذریعے ہو یا پھر کریملن میں موجود ہیکرز نے اسے انجام دیا ہو۔

امریکی اور روسی صدور کے درمیان پہلی ملاقات جنیوا میں ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے پوتن پر یہ واضح کر دیا ہے کہ ’ہم اپنی جمہوری خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے یا اپنے جمہوری انتخابات کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے اور ہم اس کا جواب دیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ذمہ دار ممالک کو مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جو اپنی سرزمین پر سائبر جرائم جیسی سرگرمیاں کرتے ہیں۔‘
بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے پوتن کی طرف اشارہ کیا تھا کہ امریکہ کے پاس بھی ’اہم سائبر صلاحیت موجود ہے، اور وہ اسے جانتے ہیں۔‘
’میرا خیال ہے کہ اب آخری چیز جو وہ چاہتے ہیں وہ سرد جنگ ہے۔‘
بائیڈن نے پوتن کے ان تبصروں کا معاملہ بھی اٹھایا جس میں شاید انہوں نے اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کا جواز یہ پیش کیا کہ وہ جنوری میں امریکی دارالحکومت میں ہونے والی کشیدگی جیسی صورت حال سے بچنا چاہتے تھے۔

بائیڈن نے کہا کہ ’ہم اپنے جمہوری انتخابات کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے‘ (فوٹو: روئٹرز)
بائیڈن نے کہا کہ ’یہ ایک مضحکہ خیز موازنہ ہے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ’بدھ کے روز جنیوا میں صدارتی اجلاس کے دوران شام میں امریکی سرحد پار سے امدادی کارروائیوں کے بارے میں امریکہ نے روس سے یقین دہانی حاصل نہیں کی۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات کے بعد عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’کوئی یقین دہانی نہیں، لیکن ہم نے واضح کیا کہ اگر شام کے بارے میں مزید تعاون کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہوگی۔‘