بجٹ کے بعد: ماریہ میمن کا کالم

پی ٹی آئی حکومت نے کافی دھوم دھڑکے سے اپنا تیسرا باقاعدہ بجٹ پیش کر دیا ہے۔
دھوم دھڑکا اس دفعہ حکومت کی طرف سے زیادہ اور اپوزیشن کی طرف سے کم رہا۔ حکومت نے ایک طرح سے معیشت کی بحالی کا بگل بجایا اور اپنے حساب سے اس کا کریڈٹ لینے کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ سیاسی طور پر وہی اسمبلی جس نے یوسف رضا گیلانی کو بطور سینیٹر منتخب کیا تھا، اسی اسمبلی سے اب حکومت کئی قوانین پاس کرانے کے بعد بجٹ پر بھی مکمل پر اعتماد ہے۔ 
اپوزیشن کی طرف سے بجٹ تقریر پر روایتی اجتجاج بھی دبا دبا سا تھا۔ اسمبلی میں اس کی وجہ شہباز شریف کی ذات کا بھی کردار نظر آتا ہے اور دوسری طرف پی ڈی ایم کے اختلافات بھی ظاہر ہیں۔
مزید پڑھیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ ن لیگ سینیٹ میں پی پی پی سے علیحدہ ہو چکی ہے مگر قومی اسمبلی میں پی پی پی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مطمئن ہے۔ اسمبلی سے باہر مریم نواز بھی خاموش ہیں۔ اس کی وجہ شاید بجٹ جیسے ٹیکنیکل معاملات میں ان کی عدم دلچسپی ہے یا پھر وہ دوبارہ  پس منظر میں جانے پر مجبور ہیں۔ ن لیگ کی معاشی ٹیم یعنی شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی طرف سے بھی حکومتی معاشی بیانیے میں کوئی خاص ڈینٹ پڑتا نظر نہیں آیا۔ اپوزیشن کے فی الحال منقسم اور بے سمت ہونے کا سارا فائدہ حکومتی کیمپ ہی لے رہا ہے۔
حکومت نے بجٹ کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں ایک اور سرپرائز بھی دیا اور ایک ہی نشست میں 20 کے قریب قوانین پاس کرا لیے۔ توقع یہی ہے کہ اسی طرح بجٹ بھی بظاہر با آسانی پاس ہو جاۓ گا۔ بظاہر اس لیے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ اور دیگر قوانین کے پاس ہونے اور پنجاب اسمبلی میں بھی بجٹ کا مرحلہ بخیر و عافیت گزرنے کے ڈانڈے عدالت میں زیر سماعت ضمانت کے کیسز سے جڑے ہوۓ تھے۔
کمال ہم آہنگی اور ٹائمنگ کے ساتھ ، ایف آئی اے نے عدالت میں اعتراف کیا کہ ان کو ابھی تک جہانگیر ترین اور ان کےصاحبزادے کی گرفتاری کی ضرورت ہی نہیں۔ اس کے ساتھ ضمانت بھی واپس ہوئی اور ذاتی اکاؤنٹ بھی غیر منجمد ہو گئے اور راجہ ریاض کا بیان بھی آ گیا کہ وہ بجٹ پر حکومت کے ساتھ ہیں۔  

ن لیگ سینیٹ میں پی پی پی سے علیحدہ ہو چکی ہے مگر قومی اسمبلی میں پی پی پی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مطمئن ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سوال اب یہ ہے کہ بجٹ کے بعد سیاسی صورتحال  کیا کروٹ لے گی؟ جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کیسز تو بن کھلے مرجھاتے نظر آ رہے ہیں اور معاملہ ایف بی آر، ایس ای سی پی اور مسابقتی کمیشن میں ہی چلے گا۔ اور چلے گا بھی کیا ، بس منظر سے غائب ہو جاۓ گا۔
کیا اس کے بعد ترین گروپ اپنا مقصد پورا کر کے تحلیل ہو جاۓ گا؟ جیسا کے پہلے بھی انہی سطور میں لکھا جا چکا ہے کہ ترین گروپ کی صورت میں پی ٹی آئی میں ایک واضح دراڑ تو پڑ چکی ہے۔ یہ گروپ ایک دفعہ اپنا مقصد پانے کے بعد مزید اپنا سیاسی اثر بڑھاۓ گا خصوصا ان حالات میں جب وزیر اعلی عثمان بزدار کا اگلے الیکشن تک رہنے کے امکانات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔
اس لیے ترین گروپ کو اکھٹے رہنے اور مزید سیاسی مراعات حاصل کرنے میں ہی فائدہ نظر آۓ گا۔ 
وفاق میں دیکھیں تو بجٹ کے پاس ہونے کے بعد دیگر قوانین سینیٹ میں جائیں گے۔ وہاں پر اپوزیشن تقسیم ہے۔ کیا حکومتی جادو وہاں بھی چلے گا؟ اس کا زیادہ دارومدار پیپلز پارٹی پر ہے جو اس سے پہلے باپ کے ساتھ اتحادی کے طور پر یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر منتخب کروا چکی ہے۔
حکومت کی خاص دلچسپی انتخابی قوانین میں تبدیلی سے ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال میں پی ٹی آئی اگلے الیکشن میں اپنے لیے مواقع دیکھ رہی ہے۔ کیا پیپلز پارٹی اس میں ن لیگ کے ساتھ کھڑی ہو گی یا پھر ایک سرپرائز دے گی؟

ترین گروپ کو اکھٹے رہنے اور مزید سیاسی مراعات حاصل کرنے میں ہی فائدہ نظر آۓ گا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
دوسری صورت میں حکومت کے قانون سازی ایجنڈے کو بھرپور سیٹ بیک ہوگا اور اگلے الیکشن تک قانون سازی غیر یقینی ہی رہے گی۔
آخر میں سیاسی قرائن یہی بتاتے ہیں کہ بجٹ کے بعد حکومتی مشکلات میں کمی تو آئے گی مگر حکومت سے توقعات اور کارکردگی میں بنیادی خلیج برقرار رہتی نظر آرہی ہے۔
بجٹ میں معاشی اشاریے مثبت سمت میں ہیں مگر مہنگائی کا مسئلہ فی الحال جوں کا توں ہے۔ پھر گرمی کے آمد کے ساتھ لوڈ شیڈنگ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اگر خبروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا تو حکومتی ساکھ کو جھٹکا لگے گا۔ اسی طرح سیاسی میدان میں حکومت کو بدستور چھوٹے سیاسی گروپوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
اسی لیے اب حکومتی وزرا اپنے وعدوں کو اگلے دور تک کھینچتے نظر آتے ہیں۔ مگر اگلے دور سے پہلے تو سیاسی میدان کا نقشہ پھر بدلنا ہے۔ اس کے فی الحال کچھ سکون اور پھر اس کے بعد کچھ تلاطم کا دور ہی چلتا نظر آ رہا ہے ۔