بجٹ 2021: شدید ردعمل کے بعد انٹرنیٹ پر ٹیکس واپس لینے کا اعلان

وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ نے بجٹ میں انٹرنیٹ ڈیٹا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی منظوری نہیں دی۔‘
جمعے کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے انٹرنیٹ ڈیٹا پر مجوزہ ڈیوٹی پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ 
تاہم بجٹ تقریر کے کچھ دیر بعد ہی وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے ٹویٹ کیا کہ ’وزیراعظم  اور کابینہ نے انٹرنیٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی منظوری نہیں دی ہے اور اسے قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے فنائنس بل (بجٹ) میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ تین منٹ سے زائد جاری رہنے والی کال، انٹر نیٹ ڈیٹا اور ایس ایم ایس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا اطلاق ہوگا۔ 
اس کے تحت جونہی موبائل صارف کی کال تین منٹ سے بڑھے گی تو اس کے موجودہ ریٹس کے علاوہ فی کال ایک روپیہ اضافی چارج کیا جائے گا۔ 
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے موجودہ ریٹس پر پانچ جی بی سے زائد انٹرنیٹ استعمال کرنے پر ہر جی بی پر پانچ روپے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ انٹرنیٹ پر ٹیکس عائد کرنے کے اعلان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا جس کے بعد حکومت نے انٹرنیٹ کے استعمال پر ٹیکس واپس لینے کا اعلان کیا۔
مزید پڑھیں
  • اقتصادی سروے 2021: کس دور حکومت میں پاکستان کا قرض کتنا بڑھا؟

    Node ID: 572971

  • تحریک انصاف کی حکومت کا 8 ہزار ارب روپے کا تیسرا وفاقی بجٹ

    Node ID: 573236

  • بجٹ 22-2021: چھوٹی گاڑیاں سستی، امپورٹڈ موبائلز مہنگے

    Node ID: 573246

وزیر توانائی حماد اظہر نے ٹویٹ کیا کہ ’وزیراعظم  اور کابینہ نے انٹرنیٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی منظوری نہیں دی ہے اور اسے قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے فنائنس بل (بجٹ) میں شامل نہیں ہوگا۔‘
شوکت ترین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس ایم ایس کے موجودہ ریٹس اور ڈیوٹی کے علاوہ فی ایس ایم ایس 10 پیسے اضافہ کیا جا رہا ہے۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے آباد کے ایک بڑے حصے پر معمولی ٹیکس نافذ ہوگا۔ تاہم ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین نے اس حکومتی اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
 
درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 
وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ مقامی صنعت کے فروغ کے لیے درآمدی اشیاء مین سے کچھ پر درآمدی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جن میں درآمدی موبائل فون بھی شامل ہیں۔ 
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی موبائل فون استعمال کی مارکیٹ ہے اور اس کی سالانہ طلب پوری کرے کے لیے قیمتی زرمبادلہ کا بڑا حصہ موبائل فون درآمد کرنے میں ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی موبائل فون ڈیوائس پالیسی کے بعد مقامی سطح پر موبائل کی متاثر کن پیداوار شروع ہوچکی ہے۔ وہ دن دور نہیں

وزیر خزانہ نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ چھوٹی گاڑیوں کو ویلیوایڈڈ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ دی جارہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
جب پاکستان موبائل برآمد کرنا شروع کر دے گا۔ مقامی موبائل فون صنعت ابھی بھی نوزائیدہ حالت میں ہے اس لیے مقامی درآمدی نعم البدل کو فروغ دینے اور بیرونی سرمایہ کاری کو رغبت دینے کے لیے موبائل فونز کی درآمدی پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
تاہم موبائل فون سروسز پر موجودہ ودہولڈنگ کی شرح 12 اعشاریہ پانچ سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور بتدریج 8 فیصد تک لایا جائے گا۔ 
چھوٹی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی چھوٹ 
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے پاکستان میں تیار 850 سی سی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  850 سی سی تک کی امپورٹڈ گاڑیوں پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی پر چھوٹ دینے اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ چھوٹی گاڑیوں کو ویلیوایڈڈ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ دی جارہی ہے۔ ’الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کرنے اور ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

فون سروسز پر موجودہ ودہولڈنگ کی شرح 12 اعشاریہ پانچ سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈل بنانے والوں کو ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مقامی طور پر تیار ہیوی موٹرسائیکل، ٹرک اور ٹریکٹر کی مخصوص اقسام پر ٹیکسز میں کمی کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے متوسط طبقے کو کو اپنی ذاتی گاڑی خریدنے کا موقع ملے گا جس سے حکومت کی میری گاڑی سکیم کو کامیابی ملے گی۔ اس طرح چھوٹی گاڑیوں کی قیمت کم ہوگی اور بہت سے شہری موٹرسائیکل کے بجائے کار کی سواری کے قابل ہو جائیں گے۔
ود ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ
بجٹ میں وفاقی حکومت نے بینکوں سے پیسے نکلوانے، سٹاک ایکسچینج میں لین دین اور ہوائی سفری خدمات سمیت کئی دیگر شعبوں میں ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ ماضی میں ڈائریکٹ ٹیکسوں کو ان ڈائریکٹ طریقے سے اکٹھا کرنے کا رجحان رہا ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو 12 شقوں میں ختم کیا جائے گا(فوٹو: اے ایف پی)
اس وقت 38 قانونی شقوں کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس اکٹھا کر رہے ہیں۔ تجویز ہے کہ اس میں 12 شقوں کو ختم کر دیا جائے، جس سے بینکنگ ٹرانزیکشن، پاکستان سٹاک ایکسچینج، مارجن فنانسنگ، ہوائی سفری خدمات، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس ختم ہو جائے گا۔

بلاسود چھوٹے قرضے

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم عوام کو ترقی کے اثرات نچلی سطح پر منتقلی کے فارمولے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ ’ماضی میں اس لارے پر عوام کو ترساگیا جبکہ ایسا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ مسلسل بیس تیس سال تک معاشی ترقی کرتا رہے لیکن پاکستان میں ایسا بھی کبھی نہیں ہوسکا۔‘
شوکت ترین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ چار سے چھ ملین گھرانوں کو نیچے سے اوپر اٹھانے کی اپروچ پر کام کریں۔ اس لیے ہر شہری گھرانے کو کاروبار کے لیے 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیں گے۔ ہر کاشت کار گھرانے کو ہر فصل کی کاشت کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے بلاسود قرضے دیں گے۔ اسی طرح ٹریکٹرز اور مشینی امداد کے لیے 2 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیں گے۔

بجٹ کے مطابق ہر شہری گھرانے کو کاروبار کے لیے پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیے جائیں گے (فوٹو: اے ایف پی)
’کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے 20 لاکھ روپے تک سستے قرضے، ہر گھرانے کو صحت کارڈ اور ایک فرد کو مفت تکنیکی تربیت دی جائے گی۔ گھر کی خریدار یا تعمیر میں مدد کے لیے تین لاکھ روپے سبسڈی دی جارہی ہے جس کے لیے بجٹ میں 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ احساس پروگرام کے لیے 260 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔‘
’نیا ٹیکس نہیں لگا، موبائل اور نیٹ تو خلائی مخلوق استعمال کرے گی‘
ہر سال کی طرح اس سال بھی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد عوام میں بجٹ کے حوالے سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس میں زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین بھی حکومت کی جانب سے بجٹ میں فون کالز اور انٹرنیٹ ڈیٹا پر ٹیکس میں اضافہ کیے جانے پر اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔
ٹوئٹر صارف خاور فون نے کالز اور انٹرنیٹ ڈیٹا پر ٹیکس عائد کرنے پر لکھا ’پاکستان واحد ملک ہے جہاں تین تین بار ٹیکس لیا جاتا ہے موبائل صارفین سے، چیف جسٹس صاحب کو تمام کپپنیوں کا ٹیرف منگوانا چاہیے اور ٹیکس کی حد مقرر کی جانی چاہیے۔ کالنگ کارڈر پر ٹیکس لینے کے بعد کالز اور میسجز پر ٹیکس، ڈیٹا پیکجز پر الگ ٹیکس، جتنا چاہے کاٹ لیتے ہیں۔‘

اسی طرح مالک نامی ہینڈل نے طنزیہ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا
’عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ شوکت ترین‘
اس سے آگے لکھا ’موبائل فون، کالز اور موبائل ڈیٹا پر ٹیکس لگا دیا ہے۔ یہ مریخ پر خلائی مخلوق استعمال کرے گی۔‘
صحافی غریدہ فاروقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ’باہر سے موبائل فون منگوانا اب مزید مہنگا! ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ، نوجوان طبقےکی خود ساختہ دعویدار ترجمان حکومت اور آئی ٹی میں انقلاب لانےکی دعوےدار حکومت ہر سال موبائل فون مزید سے مزید مہنگےکر کے نوجوان طبقے کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی اور آئی ٹی انقلاب کیسے لائے گی۔‘

 
صارف عظیم طارق انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’اس کا حل یہ ہے کہ ایک موبائل میں دو سمیں استعمال کریں۔ ایک کالز وغیرہ کے لیے اور ایک ڈیٹا کے لیے۔ اس طرح کال آنے پر بھی ڈیٹا سم سے ڈیٹا چلتا رہے گا۔‘

کامی نامی صارف نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’انٹرنیٹ کی قیمت بڑھا کر خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے کیونکہ تحریک انصاف سوشل میڈیا کے سہارے ہی تو عوام کو گمراہ کررہی ہے۔‘