بحریہ ٹاؤن میں احتجاج اورہنگامہ آرائی، 24 سے زائدافراد گرفتار

سندھ پولیس نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی میں ملوث 24 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے باہر 6 جون کو سندھی قوم پرست تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا، اس دوران مشتعل افراد نے بحریہ ٹاؤن کا مرکزی گیٹ، کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی آگ لگادی تھی۔

سندھ پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے ملزمان کی تلاش میں کیلئے آپریشن کا آغاز کردیا، ملیر، گڈاپ، قائد آباد، گلشن حدید، اسٹیل ٹاؤن، گلشن اقبال اور گلستان جوہر میں چھاپوں کے دوران 24 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

مزید جانیے : کراچی بحریہ ٹاؤن احتجاج و ہنگامہ آرائی، 120مظاہرین جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق مختلف قوم پرست جماعتوں سے ہے، انہیں مختلف تھانوں میں رکھا گیا ہے۔

پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں ہنگامہ آرائی پر 23 مقدمات درج کئے ہیں، جن میں مختلف قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے، اب تک ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے الزامات میں 162 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

قوم پرست جماعتوں پر مشتمل سندھ ایکشن کمیٹی نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مبینہ طور پر گوٹھوں کی زمینیں زبردستی ہتھیانے پر احتجاج کی کال دی تھی۔

سندھ ایکشن کمیٹی ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ایاز لطیف پلیجو اور دیگر سندھی قوم پرست رہنماؤں پر مشتمل ہے۔ سندھ انڈیجینیئس رائٹس الائنس نے بھی احتجاج کی حمایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی میں مظاہرین نے کئی گاڑیاں، دکانیں جلا دیں

مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ بحریہ ٹاؤن حکام قریبی گوٹھوں میں جاکر وہاں کے رہائشیوں کو جگہ خالی کرنے کا کہتے ہیں، وہ لوگوں کو رقم دینے کی پیشکشیں کرتے ہیں تاہم گوٹھ کے رہائشی اپنی آبائی زمینیں چھوڑنے سے انکار کرچکے ہیں۔

Bahria Town attack

الائنس کے ارکان کا کہنا ہے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نور محمد گبول گوٹھ، عثمان اللہ رکھیو گوٹھ، ہادی بخش گبول گوٹھ اور عبداللہ گبول گوٹھ کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، گوٹھ کی ان زمینوں کے علاوہ وہ کمال جوکھیو، فائز گبول اور امیر الدین گبول کی نجی زمینیں بھی ہتھیانا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں