برطانیہ: سفری پابندیوں کے خلاف فضائی کمپنیوں کی قانونی کارروائی

ہفتہ 10 جولائی 2021 5:42

ٹرانسپورٹ کے وزیر گرانٹ شیپس کے خلاف قائم کیے گئے اس مقدمے کی پہلی سماعت لندن ہائی کورٹ میں ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)

برطانیہ کے ہوائی اڈوں اور فضائی کمپنیوں کے ایک  گروپ نے حکومت کی جانب سے عائد کی گئی سفری پابندیوں کے خلاف  قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
جمعے کو شروع ہونے والی اس کارروائی کے ذریعے اس گروپ نے حکومتی وزرا کو چیلنج کیا ہے کہ وہ کورونا کے حوالے سے خطرناک ممالک کی درجہ بندی میں شفافیت پر مبنی فیصلے کریں۔
ٹرانسپورٹ کے وزیر گرانٹ شیپس کے خلاف قائم کیے گئے اس مقدمے کی پہلی سماعت لندن ہائی کورٹ میں ہوئی۔
قانونی چارہ جوئی کے اس اقدام میں ’مانچسٹر ایئرپورٹس گروپ‘ پیش پیش ہے اور آر وائے اے، ایزی جیٹ، برٹش ایئر ویز کی مالک آئی اے جی اور ٹی یو آئی یو جیسی کمپنیاں اس کا ساتھ دے رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو زیادہ لوگوں کو سفر کی اجازت دینی چاہیے۔
مزید پڑھیں
خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے والی پانچ کمپنیوں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ ’برطانوی صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فیصلے کیسے کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنے سفرکی منصوبہ بندی کر سکیں، اسی لیے ہم حکومت سے وہ ڈیٹا اور دیگر معلومات مانگ رہے ہیں جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ سازی ہو رہی ہے۔‘
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ برطانوی شہری جو مکمل ویکسین لگوا چکے ہیں،19 جولائی کے بعد درمیانے درجے کے رسک والے ممالک سے واپسی پر انہیں قرنطینہ میں نہیں جانا پڑے گا۔ علاوہ ازیں بالغ افراد جو کورونا ویکسین کی دو خوراکیں لے چکے ہیں، انہیں اور18 برس سے کم عمر افراد کو سفر کی اجازت دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سفری خدمات دینے والی کمپنیوں کہنا ہے کہ ابھی تک واضح نہیں کہ حکومت اپنے ٹریفک لائٹ سسٹم کے ذریعے کس بنیاد پر مختلف ممالک کی درجہ بندی کر رہی ہے۔
خیال  رہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی گرین فہرست صرف چھوٹے چھوٹے جزائر شامل ہیں جبکہ سپین، یونان، فرانس اور امریکا جیسے بڑے ممالک کو عنبر (گہرے زرد رنگ والی) فہرست میں رکھا گیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ 19 جولائی کے بعد بھی سفر پر پابندی رہے گی۔ اس کے بعد بھی ویکسین کی دو خوراکیں نہ لے سکنے والے برطانوی اور برطانیہ میں رہائش پذیر غیرملکیوں کو قرنطینہ ہونا پڑے گا۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق16 ماہ کی سفری بندشوں کی وجہ سے ہوائی اڈوں اور فضائی کمپنیوں کو شدید مالی نقصانات کا سامنا ہے،اس وقت لاکھوں افراد کی نوکریاں بچانے اور کاروبار کی بحالی کے لیے ان بندشوں کا مکمل طور پر ختم ہونا اہم ہے۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ٹریفک لائٹ سسٹم کورونا کے نئے ویریئنٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط طور پر مختلف ممالک کی درجہ بندی کرتا ہے۔
اس کیس سے متعلق استفسار پر ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا ’ہم عدالتی کارروائی پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘