برطانیہ میں’افواہوں کا سیلاب‘: ’دل سے ویکسینیشن کی حمایت کرتے ہیں‘

برطانیہ کے شہزادہ ولیم نے سوشل میڈیا پر ویکسین کے خلاف پھیلنے والی غلط معلومات پر خبردار کرتے ہوئے لوگوں سے کورونا ویکسین لگوانے کی اپیل کی ہے۔
فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈیوک آف کیمبرج نے سنیچر کی شام کینسنگٹن پیلس سے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’سوشل میڈیا پر بعض اوقات بہت سی افواہوں اور غلط خبروں کا سیلاب آ جاتا ہے۔‘
ویڈیو میں انہیں اور ان کی اہلیہ ڈیچز آف کیمبرج شہزادی کیتھرین کو طبی لحاظ سے کمزور دو خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھایا گیا ہے جو جلد ہی کورونا ویکسین کی پہلی ڈوز کی اہل ہوں گی۔
مزید پڑھیں
ایک ویڈیو کال میں شیوالی نامی خاتون نے، جو ذیابطیس کا شکار ہے، کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی پوسٹس پڑھیں جن کی وجہ سے وہ ابتدا میں ویکسین لگوانے کے حوالے سے ’ہچکچاہٹ‘ کا شکار رہیں۔ لیکن اب وہ ویکسین کی خواراک لینے کے لیے پراعتماد ہیں۔‘
اس کے جواب میں شہزادہ ولیم نے شیوالی کو بتایا کہ ’ہمیں اس حوالے سے تھوڑی احتیاط کرنی چاہیے کہ ہم کس پر یقین کرتے ہیں اور اپنی معلومات کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ خاص طور پر طبی لحاظ سے کمزور لوگوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے، یہ بہت اہم ہے کہ ویکسینیشن کا عمل پورا ہو۔‘
شہزادہ ولیم نے کہا کہ ’میں اور کیتھرین کسی بھی لحاظ سے طبی ماہرین نہیں ہیں، لیکن ہم پورے دل سے ویکسین لگانے کے عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ اہم ہے۔‘

برطانیہ میں اب تک ایک کروڑ 90 لاکھ لوگوں کو ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی جا چکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ویکسین لگوانا ’حیرت انگیز‘ رہا ہے جبکہ اب ہدف یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نوجوان نسل اس بات کو ’محسوس کرے کہ ویکسین لگوانا ان کے لیے نہایت اہم ہے۔‘
شہزادہ ولیم کی اس ویڈیو سے پہلے ان کی دادی اور ملکہ برطانیہ الزیبتھ دوم بھی گذشتہ جمعرات ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے کورونا ویکسین لگوانے کی اپیل کر چکی ہیں۔
ملکہ برطانیہ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’جب انہوں نے جنوری میں شہزادہ فلپ کے ساتھ ویکسین لگوائی تو انہیں کسی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘
انہوں نے اپنے پیغام میں ویکسین لگوانے سے خوفزدہ افراد کو کہا کہ ’انہیں اپنی بجائے دوسرے لوگوں کا سوچنا چاہییں۔‘
شاہی خاندان سے 72 سالہ شہزادہ چارلس اور ان کی دوسری بیوی کیملا بھی کورونا ویکسین لگوا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ شہزادہ چارلس گذشتہ برس ہلکی نوعیت کے کورونا وائرس کا شکار بھی ہوئے تھے۔
شاہی خاندان کے ان پیغامات کی وجہ یہ ہیں کہ طبی حکام نے نسلی اقلیتی کمیونٹیس کی جانب سے زیادہ تعداد میں ویکسین نہ لگوانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ میں گذشتہ برس دسمبر میں شروع ہوئے ویکسینشن پروگرام کے تحت ابھی تک ایک کروڑ 90 لاکھ لوگوں کو ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی جا چکی ہے۔