برطانیہ میں 72 سالہ شخص کا 10 ماہ میں مسلسل 43 مرتبہ کورونا ٹیسٹ مثبت

برطانیہ کے ایک 72 سالہ شخص کا مسلسل 10 ماہ سے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ ’یہ مسلسل انفیکشن کا طویل ترین ریکارڈ ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مغربی برطانیہ کے شہر برسٹل سے تعلق رکھنے والے ڈیو سمتھ جو کہ ایک ریٹائرڈ ڈرائیونگ انسٹرکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ ’ان کا کورونا ٹیسٹ مسلسل 43 مرتبہ مثبت آیا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’وہ سات مرتبہ ہسپتال میں داخل رہے ہیں اور انہوں نے اپنی آخری رسومات کی منصوبہ بندی بھی کر لی تھی۔‘
انہوں نے بی بی سی ٹی وی کو بتایا کہ ’میں امید چھوڑ چکا تھا، میں نے اپنی فیملی کو بلایا، ہر ایک سے معافی مانگی اور ہر ایک کو الوداع کہا۔‘
مزید پڑھیں
ان کی اہلیہ لنڈا جو کہ ان کے ساتھ گھر پر قرنطینہ میں رہیں کا کہنا ہے کہ ’یہ برس بہت ہی مشکل تھا، کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ہم نے سوچا وہ اب صحت یاب نہیں ہوسکیں گے۔‘
یونیورسٹی آف برسٹل اور نارتھ برسٹل این ایچ ایس ٹرسٹ کے وبائی امراض کے کنسلٹنٹ ایڈ مورگن کا کہنا ہے کہ ڈیو سمتھ کے ’پورے جسم میں فعال وائرس‘ موجود تھا۔
’ہم یونیورسٹی کے شراکت داروں کو وائرس کا نمونہ بھیج کر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ یہ اصل میں فعال اور قابل عمل وائرس ہے۔‘
سمتھ امریکہ کی بائیوٹیک فرم کی تیار کردہ اینٹی باڈیز سے صحت یاب ہوگئے تھے۔
رواں ماہ شائع ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ اس علاج سے کورونا وائرس کے شدید متاثرہ مریضوں میں اموات میں کمی واقع ہوئی ہے جو مضبوط مدافعتی ردعمل ظاہر نہیں کرسکتے۔
آخرکار پہلے انفیکشن کے 305 روز اور رگن ارون دوا لینے کے بعد ڈیو سمتھ کا ٹیسٹ منفی آیا جس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ جشن منایا۔

سمتھ جب مارچ 2020 میں کورونا کا شکار ہوئے تو اس سے قبل انہیں پھیپھڑوں کا عارضہ بھی لاحق تھا (فوٹو: روئٹرز)
ڈیو سمتھ نے طویل بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد بی بی سی ٹی وی کو بتایا کہ ’یہ ایسا تھا جیسے آپ کو آپ کی زندگی واپس مل گئی ہے۔‘
ان کا علاج سرکاری طور پر میڈیکل ٹرائل کا حصہ نہیں تھا لیکن اب برسٹل یونیورسٹی کے ماہر وبائی امراض اینڈریو ڈیوڈسن اس کیس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
اس کیس سے متعلق ایک مقالہ جولائی میں یورپی کانگریس آف کلینیکل مائیکروبیالوجی اور متعدی امراض میں پیش کیا جائے گا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسے ’کتابوں میں درج سب سے طویل انفیکشن‘ کہا جاسکتا ہے۔
سمتھ جب مارچ 2020 میں کورونا وائرس کا شکار ہوئے تو اس سے قبل انہیں پھیپھڑوں کا عارضہ بھی لاحق تھا اور وہ حال ہی میں بلڈ کینسر سے صحت یاب ہوئے تھے۔
انہوں نے دی گارڈین اخبار کو بتایا کہ ’صحت یاب ہونے کے بعد بھی ان کی سانس اُکھڑتی ہے لیکن وہ برطانیہ کے مختلف علاقوں کا سفر کرچکے ہیں اور اپنی پوتی کو گاڑی چلانے کی ٹریننگ بھی دے رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اب سب کچھ ٹھیک ہے۔‘