برطانیہ کا مکمل ویکسینیشن والے افراد کے لیے قرنطینہ کی شرط ختم کرنے کا اعلان

امریکہ سمیت اکثر یورپی ممالک سے برطانیہ واپس آنے والے شہریوں کو قرنطینہ میں رہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، تاہم ویکسین کی مکمل خوراکیں لگوانا لازمی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ قرنطینہ سے متعلق شرائط میں تبدیلیاں 19 جولائی سے نافذالعمل ہوں گی۔ حکومت نے کورونا وائرس سے جڑی تمام پابندیاں ختم کرنے کی امید کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی حکومت کے حالیہ اقدامات کو سیاحت کی صنعت کی بحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
تاہم کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد سے پابندیاں ہٹانے کے اقدامات پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت پیلی فہرست والے ممالک سے برطانیہ واپس آنے پر دس دن کے لیے اپنے گھر میں قرنطینہ کرنا لازمی ہے۔ اس فہرست میں ایشیائی ممالک سمیت امریکہ اور اکثر یورپی ممالک شامل ہیں۔
تاہم پابندیوں میں نرمی کے باوجود سفر کے آغاز سے 72 گھنٹے پہلے مسافروں کے لیے کورونا کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا، جبکہ برطانیہ واپس پہنچنے کے دوسرے دن ٹیسٹ کروانا ہوگا۔
جن بچوں کے لیے ویکسین لگوانا لازمی قرار نہیں دیا گیا، ان کے لیے قرنطینہ کی شرط پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی تبدیلیاں صرف ان شہریوں پر لاگو ہوتی ہیں جنہوں نے کسی غیر ملک جاننے سے پہلے ویکسین برطانیہ میں لگوائی تھی۔

برطانیہ میں 19 جولائی سے ماسک پہننے کی پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔ فوٹو اے ایف پی
جبکہ برطانیہ کے علاوہ کسی اور ملک میں ویکسین لگوانے والے مسافروں کو برطانیہ پہنچنے پر اپنے گھروں میں قرنطینہ کرنا پڑے گا۔ حکومت کی جانب سے یہ شرط برطانوی شہریوں سمیت غیر رہائشیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
ہیتھرو ایئر پورٹ نے بدھ کو چند منتخب ممالک سے آنے والے ان مسافروں کے لیے فاسٹ ٹریک لینز متعارف کروائی ہیں جو ویکسین کی مکمل خوارک لگوا چکے ہیں۔
چند میڈیا اداروں  نے 19 جولائی کو ’آزادی کا دن‘ قرار دیا ہے جب ماسک پہننے سمیت کورونا وائرس سے جڑی تمام پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔ 
وزیراعظم بارس جانسن کے خیال میں ویکسین کی کامیاب مہم کے نتیجے میں انفیکشن کے باعث ہسپتال میں داخلے اور اموات کے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے۔
تاہم 120 سائنسدانوں اور طبی ماہرین پر مشتمل ایک گروپ نے برطانوی وزیراعظم کے حالیہ منصوبے کو ’خطرناک اور غیراخلاقی تجربہ‘ قرار دیا ہے۔
لانسٹ میڈیکل جرنل کو لکھے گئے خط میں انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ جلدبازی میں پابندیاں اٹھانے کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو طویل مدتی بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کورونا وائرس طویل عرصے تک موجود رہے گا۔