برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس سوم نے اپنے پہلے خطاب میں کیا کہا؟

ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ کی بادشاہت کے تخت پر فائز ہونے والے چارلس سوم نے جمعے کو اپنی پہلی تقریر کی۔
سکائی نیوز کے مطابق جمعے کو اپنی پہلی تقریر کا آغاز دُکھ بھرے الفاظ سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں آج آپ سے گہرے دکھ کے جذبات کے ساتھ بات کر رہا ہوں۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی پوری زندگی میں ملکہ (میری پیاری ماں) میرے اور تمام خاندان کے لیے ایک مثال تھیں اور ہم سب پر ان کا ویسا ہی قرض ہے جس قدر بھی کوئی خاندان اپنی ماں کی محبت، پیار اور رہنمائی کے لیے مقروض ہو سکتا ہے۔‘
’ملکہ الزبتھ کی زندگی ایک اچھی زندگی تھی۔ تقدیر کے ساتھ کیا گیا ایک وعدہ پورا ہوا اور ان کے انتقال پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا گیا۔ میں آپ سب سے زندگی بھر کی خدمت کے اس وعدے کی تجدید کرتا ہوں۔‘
’ملکہ نے اپنا فرض نبھانے کے لیے قربانیاں دیں‘
انہوں نے کہا کہ ’میری والدہ نے 70 برس سے زیادہ عرصے تک ملکہ کے طور پر بہت سی اقوام کے لوگوں کی خدمت کی۔‘
’انہوں نے 1947 میں اپنی 21 ویں سالگرہ کے موقع پر عہد کیا تھا کہ وہ اپنی زندگی چاہے وہ مختصر ہو یا طویل، اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کریں گی۔‘
’یہ ایک وعدے سے بڑھ کر تھا۔ یہ ایک گہری ذاتی وابستگی تھی جس نے ان کی پوری زندگی کی راہ متعین کردی تھی۔ انہوں نے اس فریضے کے لیے قربانیاں دیں۔‘
بادشاہ چارلس سوم نے کہا کہ ’میں اپنی والدہ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور میں ان کی خدمات کی زندگی کا احترام کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ان کی موت آپ میں سے بہت سے لوگوں کے لیے بہت دکھ کا باعث ہے اور میں اس نقصان کے احساس میں آپ سب کے ساتھ ہوں۔‘

بادشاہ چارلس سوم کا کہنا تھا کہ ’میں وفاداری، احترام اور محبت کے ساتھ آپ کی خدمت کرنے کی کوشش کروں گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’جب ملکہ تخت نشین ہوئیں، برطانیہ اور دنیا اس وقت دوسری جنگ عظیم کے بعد کی مفلسی اور تنگ دستی کا مقابلہ کر رہے تھے اور ہم اس وقت پہلے زمانے کے کنونشن کے مطابق زندگی گزار رہے تھے۔‘
’گذشتہ 70 برس کے دوران ہم نے اپنے معاشرے کو کئی ثقافتوں اور بہت سے عقائد میں سے ایک بنتے دیکھا ہے۔ ریاست کے ادارے مرحلہ وار تبدیل ہوئے ہیں۔ لیکن تمام تبدیلیوں اور چیلنجوں کے ذریعے ہماری قوم (جن کی صلاحیتوں، روایات اور کامیابیوں پر مجھے بے حد فخر ہے) خوش حال اور پروان چڑھی ہے۔‘
’ہماری اقدار برقرار ہیں اور یہ ہمیشہ رہیں گی۔‘
’بادشاہت کا کردار اور فرائض باقی ہیں‘
کنگ چارلس نے کہا کہ ’بادشاہت کا کردار اور فرائض باقی ہیں جیسا کہ بادشاہت کا چرچ آف انگلینڈ کے ساتھ خاص تعلق اور ذمہ داری ہے۔ وہ چرچ جس میں میرا اپنا ایمان بہت گہرا ہے۔‘
’میری پرورش دوسروں کے لیے فرض کے احساس کو فروغ دینے اور ہماری منفرد تاریخ اور ہمارے پارلیمانی نظام حکومت کی زریں روایات، آزادیوں اور ذمہ داریوں کا سب سے زیادہ احترام کرنے کے لیے ہوئی ہے۔‘

بادشاہ چارلس سوم نے اپنے خطاب میں ملکہ الزبتھ کو خراج عقیدت پیش کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’جیسا کہ ملکہ نے خود اس غیر متزلزل عقیدت کے ساتھ عہد کیا تھا، اب میں بھی اپنے آپ سے ویسا ہی عہد کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے اپنی قوم کے دل میں آئینی اصولوں کو برقرار رکھنے کا جو باقی وقت عنایت کیا ہے۔‘
’آپ برطانیہ میں رہیں یا دنیا بھر کے علاقوں اور خطوں میں جہاں کہیں بھی رہیں۔ آپ کا پس منظر یا عقائد کچھ بھی ہوں۔ میں وفاداری، احترام اور محبت کے ساتھ آپ کی خدمت کرنے کی کوشش کروں گا جیسا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کیا ہے۔‘
بادشہ چارلس کے مطابق ’جب میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالوں گا تو یقیناً میری زندگی بدل جائے گی۔‘
’میرے لیے اب یہ ممکن نہیں رہے گا کہ میں اپنا اتنا وقت اور توانائیاں ان خیراتی اداروں اور مسائل کو دے سکوں جن کا میں بہت دھیان رکھتا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ اہم کام دوسروں کے قابل اعتماد ہاتھوں میں جاری رہے گا۔‘
’میری پیاری ماں آپ کا شکریہ‘
انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں اپنی ماں کو دوبارہ یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنی پیاری ماں سے جب آپ میرے پیارے والد کے ساتھ شامل ہونے کے لیے اپنا آخری عظیم سفر شروع کر رہی ہیں۔ صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شکریہ۔‘
’ہمارے خاندان اور قوموں کے خاندان کے لیے آپ کی محبت اور عقیدت کے لیے آپ کا شکریہ، آپ نے ان تمام عمر اتنی تندہی سے خدمت کی ہے۔‘