برٹش ایف 3 چیمپیئن شپ، سعودی عرب کی ریما جفالی چوتھے نمبر پر

سعودی ریسر ریما جفالی اپنے کیریئر میں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق گذشتہ ہفتے کے آخر میں سلور سٹون میں اپنے پہلے ایونٹ میں ڈگلس موٹرسپورٹ کی یہ ڈرائیور اپنے 2021 کے بی ڈی آر سی برٹش ایف 3 چیمپئن شپ کے حالیہ راؤنڈ میں چوتھے نمبر پر رہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ریما جفالی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے لیے چوتھے نمبر پر ختم کرنا تھوڑا حیران کن تھا۔ حیرت انگیز بات یہ کہ یہ بہت جلدی ہوا لیکن یہ بہت حوصلہ افزا اور ہمت بڑھانے والا تھا۔‘
مزید پڑھیں
’لیکن ہاں، لائن کو پار کرتے ہوئے میں بہت زیادہ پرجوش اور خوش تھی، میں اپنی ٹیم کو خوش کرنا چاہ رہی تھی اور ان کی تمام محنت کے لیے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس کے علاوہ ایک سکون کا احساس تھا کہ میری سخت محنت کا صلہ ملا۔‘
ڈگلس موٹر سپورٹ کے لیے یہ اب تک ریما جفالی کی سب سے بہترین کارکردگی تھی۔
29 سالہ ڈرائیور نے بتایا کہ اگر ریس تھری کی بات کی جائے تو ان کے خیال میں ہفتے کے اختتام پر سب اچھا ہو رہا تھا۔
انہوں نے کہ اس موقعے پر ان کو دباؤ بھی محسوس ہوا تاہم وہ جتنا ممکن ہو سکے بہترین نتیجہ چاہتی تھی۔
‘مجھے وہ سب حاصل ہو رہا تھا جس کی مجھے اپنے آپ سے اور کار سے ضرورت تھی۔ یہ بہت مثبت تھا کہ میں اس کی جانب بڑھ رہی تھی اور میں جانتی تھی کہ میں کارکردگی دکھاؤں گی اور میں یہ ریس میں دکھانا چاہ رہی تھی۔ کوالیفائی کرنے کے کچھ اتار چڑھاؤ بھی تھے لیکن ریس ون میں کچھ مثبت چیزیں بھی تھیں۔‘

ریما جفالی نے کہا کہ ریس میں ان کو دباؤ بھی محسوس ہوا تاہم وہ جتنا ممکن ہو سکے بہترین نتیجہ چاہتی تھی۔ (فوٹو: ڈگلس موٹرسپورٹ)
ریما جفالی کے لیے ریس میں فرنٹ سے آغاز کرنے کے لیے یہ دوسرا موقع تھا اور انہوں نے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ خود کو پرسکون رکھیں گی، اپنی قابلیت پر بھروسہ رکھیں گی اور جتنا ممکن ہو کم سے کم غلطیاں کریں۔
انہوں نے کہ یہی وجہ تھی کہ اچھی کار کردگی دکھائی۔ اگرچہ یہ ان کا فارمولہ تھری میں پہلا سیزن تھا۔ جفالی نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے انہوں نے ایک بڑا قدم اٹھایا اور میں امید کر رہی ہوں کہ ہم اگلے ہفتے بھی ایسی ہی کارکردگی دکھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود کو آگے بڑھتا ہوا محسوس کر رہی ہیں۔
’سیزن شروع ہونے سے پہلے ہم نے ٹسیٹنگ میں کچھ دن گزارے، آپ اب بھی کار کے بارے میں بہت کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں نے ٹیم تک بھی یہ پہنچانے کی کوشش کی۔‘

حالیہ مہینوں میں سعودی عرب میں ریما جفالی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ریما جفالی نے مزید بتایا کہ ’ہم نے 20 منٹ ریس کے لیے تیاری کی، کوالیفائی کرنے کے لیے ہمارے پاس 20 منٹ تھے اور پھر تین منٹ کی ریس۔ لیکن ریس کی تیاری کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اور اس سے آپ کو بہت مدد مل جاتی ہے جب آپ کے ارگرد صحیح لوگ، صحیح رہنمائی، صحیح ٹیم ہو۔‘
جفالی نے ڈھائی سال قبل ریسنگ میں قدم رکھا۔ وہ چاہتی ہیں دنیا کے بہترین ڈرائیور کے خلاف ریس کریں اور ان سے سیکھیں اور اپنی کارکردگی مزید بہتر کریں۔
حالیہ مہینوں میں سعودی عرب میں ریما جفالی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کو مملکت کی نمائندگی کرنے پر فخر ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ مملکت میں نوجوان ڈرائیورز کے لیے ایک رول ماڈل بنیں۔