بشیرمیمن پہلے گواہ ہیں جوچن چن کرنام لے رہے ہیں،اعتزازاحسن

پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی 54 سالہ وکالت کے دوران پہلا ایسا گواہ دیکھا ہے جو چن چن کر بے قائدگی میں ملوث افراد کا نام لے رہا ہو۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیومیں گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بشیر میمن کے بیان پر ایک کمیشن بننا چاہئے جو سارے معاملے کی تحقیقات کرے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ ن لیگ کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ سمجھتی ہے کہ وہ بیان سچا ہے تو وہ عدالت میں درخواست دے کیوں کہ اس بیان کے ثابت ہونے کی صورت میں پارٹی رہنماؤں کی تمام کیسز میں بریت کا دعویٰ بھی دائر کیا جاسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے سامنے ارشد ملک ویڈیو کے بعد دوسری اہم شہادت آئی ہے لہٰذا ن لیگ کو اس معاملے کے ساتھ ارشد ملک والی ٹیپ بھی عدالت میں پیش کرنی چاہیے۔

اعزازاحسن نے کہا کہ بشیرمیمن دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے جو کہا ہے وہ درست ہے لہٰذا جسٹس قاضی فائزعیسی سے متعلق ان کا بیان قابل غور ہے کیونکہ یہ خاصی حساسیت کا معاملہ ہے۔

جعلی اکاؤنٹس کیس سے متعلق اعتزاراحسن کا کہنا تھا کہ بشیرمیمن کو آصف زرداری سے بھی شدید نفرت تھی اس وجہ سے ہم سمجھ رہے تھے کے جعلی اکاؤنٹس کیس میں وہ بدنیتی سے کام لے رہے ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت ہے کوئی بادشاہت نہیں کہ مخالفین کو ایک کمرے میں بند کردیا جائے، عمران خان نے امریکا میں بھی اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکیاں دی تھیں۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے سب سے پہلے اسمبلی فلور پر کہا تھا کہ حکومت نیب کو استعمال کررہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 2 اراکین قومی اسمبلی پابند سلاسل ہیں لیکن کوئی اس پر بات نہں کرتا۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ بشیر میمن جیسے افسران کے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا اس لیے میں چیف جسٹس سے گزارش کروں گا کہ وہ ان معاملات پر کمیشن کی تشکیل پر غور سے متعلق ایک کمیٹی بنادیں۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ اس معاملے پر ہماری پارٹی میں مشاورت جاری ہے اورلائحہ عمل سے متعلق قانونی ماہرین سے بھی بات ہوئی ہے۔

 عطاتارڑ نے شہزاداکبر کے ایک پراپرٹی ٹائیکون سے رابطے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر کے فون کو قبضے میں لے کر تحقیقات ہونی چاہئیں کہ وہ کن کن لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا جب دل چاہتا ہے وہ کسی کو بھی اندر کردیتے ہیں لیکن آج تک کسی کے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوسکی کیوں کہ یہ احتساب صرف سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہورہا ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ بشیر میمن جب سے ریٹائر ہوئے ہیں متنازع بیانات دے رہے ہیں جبکہ وہ خواجہ آصف کے اقامے کے حوالے سے بھی دو متضاد بیانات دے چکے ہیں۔

عثمان ڈارکا مزید کہنا تھا کہ ان کی پارٹی بشیر میمن کے بیانات کو اہمیت ہی نہیں دیتی کیوں کہ ان کی کوئی ایک زبان نہیں، وہ پہلے تو یہ بتائیں کہ ان کا کون سا بیان صحیح ہے۔

انہوں نے شہبازشریف کی ضمانت سے حوالے سے تبصرہ کیا کہ ضمانت تو ڈبل شاہ کو بھی ملی تھی اور پورے پنجاب کو پتہ تھا کہ اس نے عوام کے ساتھ کیا کیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہبازشریف نوسربازی میں ڈبل شاہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔

عثمان ڈار نے کہا کہ پی ڈی ایم سے کچھ  نہیں نکلا تو آج ن لیگ والے بشیر میمن کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں تاہم عثمان ڈار نے کہا کہ بشیر میمن کے بیان پر کمیشن ضرور بننا چاہیے۔

متعلقہ خبریں