بلوچستان اسمبلی ہنگامہ آرائی،مقدمے سے اپوزیشن ارکان کے نام خارج

کوئٹہ پولیس نے شواہد نہ ملنے پر اپوزیشن کے 17 اراکین کے نام بلوچستان اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس سے خارج کردیئے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مقدمہ واپس لینے کی بجائے نام نکال کر حکومت دھوکہ دے رہی ہے اور چاہتی ہے کہ اپوزیشن کے سر پر مقدمے کی تلوار لٹکتی رہے۔

بلوچستان اسمبلی میں 18 جون ہونیوالے بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی پر کوئٹہ پولیس نے بجلی روڈ تھانے میں اپوزیشن کے 17 ارکان اسمبلی کے خلاف اقدام قتل سمیت 17 دفعات کے تحت مقمہ درج کیا تھا۔

کوئٹہ پولیس کے ایس ایس پی انویسٹی گیشن اسد خان ناصر کی جانب سے ڈی آئی جی پولیس کو بجھوائے گئے مراسلے میں آگاہ کیا گیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران انویسٹی گیشن افسر نے شواہد میں تضاد پایا، اس بناء پر نامزد کئے گئے 17 ارکان اسمبلی کے نام ضابطہ فواجداری رسمی کارروائی پوری ہونے پر مقدمے سے خارج کئے جارہے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان کا بجلی روڈ تھانے میں دھرنا گیارہویں روز بھی جاری ہے۔ اپوزیشن نے مقدمے سے نام واپس لینے کے باوجود احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان حکومت ہمیں دھوکہ دے رہی ہیں، حکومت مقدمہ واپس لینے کی بجائے چال چل رہی ہے، آج مقدمہ سے نام نکالے گئے ہیں کل واپس بھی شامل کئے جاسکتے ہیں، اس طرح اپوزیشن ارکان کے سر پر مقدمے کی تلوار لٹکتی رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں، مقدمہ واپس لینے تک احتجاج جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں