بلوچستان: ایران سرحد پر باڑ کی حفاظت پر مامور ایف سی اہلکاروں پر حملہ، ایک ہلاک

حملے کی ذمہ دار کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔(فائل فوٹو: ٹوئٹر)

بلوچستان کے ضلع کیچ (تربت) میں عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک ایف سی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
ادھر کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ سے نامعلوم افراد نے تین مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے۔
ایف سی ذرائع کے مطابق فرنٹئیر کور بلوچستان 61 ونگ کے اہلکار کیچ کی تحصیل مند میں پاک ایران سرحد کے قریب لگائی گئی باڑ کی حفاظت پر مامور تھے۔ سنیچر کی صبح قریبی پہاڑ میں گھات لگائے نامعلوم حملہ آوروں نے اہلکاروں پر چھوٹے اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
مزید پڑھیں
اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر تین اہلکار سپاہی حسین بخش، رضوان احمد  اور شبیر احمد زخمی ہوگئے جن میں حسین بخش بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔
قریبی ایف سی چوکی سے ایف سی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر جوابی فائرنگ کی جس پر حملہ آور فرار ہوگئے۔
حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔ 
خیال رہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد پر سرحد پار سے حملے  اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کےلئے آہنی باڑ لگانے کا کام شروع کیا ہے۔ جہاں باڑ مکمل کرلی گئی ہے وہاں حفاظت کے لیے چوکیاں قائم کرکے ایف سی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
مئی میں بھی پاک ایران سرحدی علاقے میں اس طرز کے ایک حملے میں چار ایف سی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے نواحی پہاڑی علاقے مارگٹ سے نامعلوم افراد نے چھ مزدوروں کو اغوا کرلیا جو ایک نجی موبائل فون کمپنی کا ٹاور لگارہے تھے۔
لیویز کے مطابق اغوا کاروں نے تین مزدوروں کو چھوڑ دیا جبکہ باقی تین تاحال لاپتہ ہیں۔ اغوا ہونے والوں میں ایک مقامی جبکہ دو کا تعلق قلعہ سیف اللہ اور پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔