بلوچستان حکومت نے مقدمہ واپس لے لیا، اپوزیشن کا دھرنا ختم

بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے کوئٹہ کے پولیس سٹیشن میں 13 دنوں سے جاری احتجاج ختم کر دیا ہے۔ 
اپوزیشن نے ارکان اسمبلی اور پارٹی کارکنوں کے خلاف اسمبلی میں توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کے الزام میں درج کیا گیا مقدمہ واپس لیے جانے پر اپنا احتجاج ختم کیا۔ اتوار کی صبح ارکان اسمبلی جلوس کی شکل میں تھانے سے ایم پی اے ہاسٹل پہنچے اور پھر گھروں کو چلے گئے۔ 
مزید پڑھیں
اس سے پہلے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی سربراہی میں صوبائی وزراء کا ایک وفد رات گئے تھانے پہنچا اور حکومت کی جانب سے مقدمہ واپس لیے جانے کا نوٹیفیکشن اپوزیشن لیڈر ملک سکندر کے حوالے کیا جس پر انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ 
اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے اپوزیشن ارکان سے معذرت بھی کی اور کہا کہ اپوزیشن کے خلاف درج مقدمہ غلط تھا اس لیے واپس لیا۔ 
اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ہم بجٹ میں اپوزیشن حلقوں کو نظر انداز کرنے پر احتجاج جاری رکھیں گے اور چھ جولائی کو ریکوزیشن پر طلب کیے گئے اسمبلی اجلاس میں بھی بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جام حکومت کو جام کرکے رہیں گے۔‘ 
ترقیاتی بجٹ میں نظر انداز کرنے کے خلاف احتجاج کے دوران بلوچستان اسمبلی کے 17 اپوزیشن ارکان کے خلاف 18 جون کو بجٹ اجلاس کے موقع پر ہنگامہ آرائی کے الزام میں بجلی روڈ تھانہ میں اقدام قتل سمیت 17 دفعات کے تحت مقدمہ درج  کیا گیا تھا۔21 جون کو مقدمے میں نامزد ارکان اسمبلی از خود گرفتاری دینے تھانے پہنچے تاہم پولیس نے حکومتی ہدایات پر انہیں گرفتار اور حوالات میں بند کرنے سے انکار کر دیا جس پر اپوزیشن نے تھانے کے اندر ہی دھرنا دے دیا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے اپوزیشن ارکان سے غلط مقدمہ درج کیے جانے پر معذرت کی۔ فائل فوٹو: اے پی پی
اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ مقدمہ واپس لیے بغیر وہ تھانے سے نہیں جائیں گے یا پھر انہیں گرفتار کیا جائے۔ 
اپنی نوعیت کا یہ منفرد دھرنا 13 دنوں تک جاری رہا۔ اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ سمیت جمعیت علمائے اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ارکان اسمبلی دن رات تھانے میں ہی رہے۔   
قیام پاکستان سے قبل انگریز دور میں بنی ہوئی عمارت میں قائم کوئٹہ کا بجلی روڈ تھانہ اپوزیشن کے دھرنے کے باعث توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اپوزیشن ارکان نے تھانے کو ایک طرح بیٹھک بنا لیا۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے تھانے جاکر اپوزیشن رہنماؤں سے اظہار یکجہتی کیا۔ 
بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر کا کہنا تھا کہ مچھروں کی بہتات، سونے کے لیے مناسب جگہ، علیحدہ واش روم اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، رات کو ہم تھانے کی چھت یا پھر تھانے کے صحن میں سوتے تھے۔ 
مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے احتجاج پر بیٹھے ارکان اسمبلی کو تھانے میں  مٹن اور چکن کڑاہی، سجی، مٹن روسٹ، پلاؤ اور بریانی کی دعوتیں بھی دی گئیں جس پر وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء نے انہیں تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ اس دوران حکومت نے احتجاج کی کوریج روکنے کے لیے میڈیا کے نمائندوں کے تھانے میں داخلے پر پابندی لگائی۔ 

اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں فنڈز کی غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ فوٹو: اردو نیوز
ملک سکندر ایڈووکیٹ کے مطابق ’حکومت نے ہمارے حوصلے پست کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر اپوزیشن کے عزم و حوصلے نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ ہم بجٹ کی غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔‘
حکومتی حلیف جماعت اے ین پی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے چند ترقیاتی منصوبوں کی خاطر پوری صوبے کی سیاست اور جمہوریت کو داؤ پر لگایا۔ بجٹ بنانا اور اس پر عملدرآمد حکومتوں کا آئینی حق ہے، بجٹ اپوزیشن کی خواہشات پر نہیں بن سکتا۔