بلوچستان: ’سی پیک کا کریڈٹ دہشتگردوں کو بھگانے والوں کو جاتا ہے‘

پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ سی پیک پر تیزی سے کام جاری ہے اور ’اس کا کریڈٹ یہاں کے عوام اور سکیورٹی فورسز کو جاتا ہے جنہوں نے یہاں سے دہشت گردوں کو بھگایا۔‘
سنیچر کو بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ بارڈر پر طویل باڑ لگائی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’تقریباً ساڑھے چھ سو کلومیٹر تک باڑ لگائی جا چکی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ اور سی پیک وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
مزید پڑھیں
عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ’وزیر اعظم پیر کے روز گوادر کا دورہ کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گوادر کو ملک بھر کے ساتھ جوڑنے کے لیے سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت ہم ہوشاب، آواران خضدار روڈ پر موجود ہیں جبکہ یہاں دیگر بے شمار سڑکیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔‘
انہوں نے بسیمہ خضدار روڈ کا خصوصی طور پر حوالہ دیتے ہوئے اسے بہت اہم قرار دیا اور کہا کہ اس پر 70 فیصد تک کام ہو چکا ہے اور اس سال کے آخر تک کام پورا ہو جائے گا۔
 ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ 72 سال سے گلے شکوؤں اور محرومیوں کا شکا رہا ہے، کبھی فنڈز اور ترجیح کی کمی اور کبھی سکیورٹی کی شکایات سامنے آتی رہیں۔

وزیراعظم عمران خان پیر کے روز گوادر کا دورہ کریں گے۔ (فوٹو: روئٹرز)
ان کا کہنا تھا کہ ’اس علاقے میں ترقی کا انقلاب آتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔‘  ان کا کہنا تھا کہ اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ جو یہاں پر لوگوں کے ایشوز پر ان پر کیا کام ہو رہا ہے؟
ان کا کہنا تھا یہاں سڑکوں، بجلی، پانی اور روزگار کے مسائل تھے جن کو حل کیا جا رہا ہے۔
عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ’وزیراعظم کی ہدایت پر پلاننگ ٹیم نے جنوبی بلوچستان کا پیکیج بنایا جو چھ سو ارب روپے سے زیادہ کا ہے۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے سے ترقی کا انقلاب آئے گا (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ ’72 سالہ تاریخ میں پہلی بار اتنا بڑا پیکج شروع کیا جا رہا ہے۔‘
عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ پیکج میں وفاقی حکومت کے علاوہ صوبائی حکومت، سی پیک اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کا بھی حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیکج میں 199 سکیمیں ہیں جن میں بے شمار ترقیاتی کام شامل ہیں۔ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین نے یہ بھی بتایا کہ 230 ملین ڈالر کی گرانٹ سے گوادر میں بہت بڑا ایئرپورٹ بھی بن رہا ہے جبکہ جدید انٹرنیٹ سروس بھی فراہم کی جائے گی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بسیمہ خضدار کے علاقے میں بہت بڑا گرڈ سٹیشن بن رہا ہے۔