بلوچستان کے ’علاقہ غیر‘ سے مغوی خاتون اور تین بچے بازیاب

بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور صحبت پور کی سرحد پر پٹ فیڈر کینال کے کنارے واقع جنگلات سے پولیس نے رواں ہفتے دو مختلف کارروائیوں کے دوران تین بچوں اور ایک خاتون کو بازیاب کرایا۔
پولیس حکام کے مطابق جنگلات پر مشتمل یہ ‘علاقہ غیر‘ ماضی میں کالعدم علیٰحدگی پسند بلوچ تنظیموں کا گڑھ رہا ہے اور اب یہاں اغوا کاروں اور جرائم پیشہ گروہوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔
جمعہ کو صحبت پور کے علاقے درگھی سے 12 سالہ بچے ذیشان ابڑو کو سود پر حاصل کیا گیا قرض واپس نہ کرنے پر اغوا کیا گیا۔ اغوا کاروں میں سے ایک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بچے کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی اور بچے کے ساتھ  سیلفی بھی پوسٹ کی تھی۔
مزید پڑھیں
بچے کے والد معشوق علی ابڑو نے اردو نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ایک دوست کو ملزمان سے نو لاکھ کی گاڑی 13 لاکھ 80 ہزار روپے کی میں دلائی تھی جس میں سے تین لاکھ 30 ہزار روپے رقم ادا کردی تھی اور باقی رقم آٹھ ماہ میں ادا کرنی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘دوست نے آٹھ لاکھ روپے ادا کردیے اور باقی رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو ملزموں نے میرے بچے کو گھر سے اغوا کرلیا۔‘
صحبت پور پولیس کے ڈی ایس پی جان محمد کھوسہ نے بتایا کہ ’اغوا کاروں نے بچے کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی اور صحبت پور کی سرحد پر واقع پٹ فیڈر کینال کے کنارے جنگلات میں رکھا ہوا تھا۔‘
 انہوں نے بتایا کہ ’ماضی میں یہاں کالعدم تنظیموں کے کیمپ موجود تھے جنہوں نے بارودی سرنگیں بھی بچھا رکھی تھیں اس لیے اس علاقے میں پولیس نہیں جاتی۔‘
مقامی سماجی کارکنوں نے بچے کی بازیابی کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلائی جبکہ بچے کے والد نے تھانے کے باہر احتجاج بھی کیا، جس کے بعد پولیس متحرک ہوئی۔

12 سالہ ذیشان ابڑو کو سود پر حاصل کیا گیا قرضہ واپس نہ کرنے پر اغوا کیا گیا تھا (فوٹو: اردو نیوز)
ڈی ایس پی کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس اور انٹی ٹیررسٹ فورس نے آپریشن کرکے 36 گھنٹے بعد بچے کو بازیاب کرا لیا اور کئی مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا تاہم مقدمے میں نامزد ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ’بچے کی بازیابی کسی آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات کے نتیجے میں ہوئی۔ اغوا کاروں نے گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی پر بچے کو چھوڑا، ملزمان کو اب تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔‘
معشوق علی کے مطابق انہوں نے اپنے بچے کی جان داؤ پر لگا کر ملزموں کے خلاف آواز اٹھائی تو پولیس پر دباؤ پڑا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جرائم پیشہ عناصر کا یہ گروہ اس سے پہلے بھی ایسی وارداتیں کرچکا ہے، ملزموں کی بے خوفی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچے کو اغوا کرنے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر اس کے ساتھ سیلفی بھی پوسٹ کی۔‘

’علاقے میں جرائم پیشہ گروہوں اور سود پر قرض دینے والے افراد نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے‘ (فوٹو: اردو نیوز)
ڈی ایس پی کے مطابق گذشتہ شب پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے دوبارہ آپریشن کیا تو وہاں سے ایک خاتون اور ان کے دو بچوں کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ماہ قبل کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن سے ملزمان ورغلا کر لے آئے تھے اور یہاں قید کر لیا۔‘
مقامی صحافی دھنی بخش مگسی کے مطابق ’پٹ فیڈر نہر کے دوسری طرف ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی کا علاقہ ہے جہاں اب ایف سی نے انتظامات سنبھال رکھے ہیں جبکہ نہر کے دوسری جانب کوئی حکومتی رٹ نہیں۔ یہاں اغوا برائے تاوان میں ملوث گروہوں اور جرائم پیشہ افراد نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔‘
صحبت پور پولیس کے ڈی ایس پی جان محمد کھوسہ کا کہنا ہے کہ ’گھنے جنگلات اور ریتلا علاقہ ہونے کی وجہ سے بھی پولیس کو یہاں کارروائی میں مشکل پیش آتی ہے۔ جنگلات میں چند فٹ کے فاصلے پر کسی کا نظر آنا مشکل ہوتا ہے اس لیے یہ جرائم پیشہ گروہوں کی پسندیدہ جگہ ہے۔‘
صحافی دھنی بخش مگسی نے بتایا کہ ’علاقے میں جرائم پیشہ گروہوں اور سود پر قرض دینے والے افراد نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ سود مافیا پہلے سود پر قرضے دیتا ہے اور وقت پر ادائیگی نہ ہونے پر قرضوں کا بوجھ بڑھا کر انہیں اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے، بعد میں اس کے بدلے ان کی قیمتی زرعی زمینیں ہتھیا لی جاتی ہیں۔‘
وقت پر قرض واپس نہ کرنے والوں کو اغوا کر کے یہاں رکھا جاتا ہے جبکہد وسرے صوبوں سے تاوان کے لیے اغوا ہونے والوں کو یہاں رکھا جاتا ہے۔