بلوچستان: ہرنائی میں کوئلہ کان میں حادثے سے چار کان کن ہلاک، دو کی تلاش جاری

عبدالغنی نے بتایا کہ متاثرہ کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات،  شانگلہ اور دیر سے ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلہ کان میں حادثے کے نتیجے میں چار کان کن  ہلاک ہوگئے جبکہ دو پھنسے ہوئے کان کنوں کی تلاش جاری ہے
چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی نے اردو نیوز کو بتایا کہ حادثہ سنیچر کی صبح ہرنائی کی تحصیل شاہرگ کے علاقے ترخ تنگی کی ایک کوئلہ کان میں پیش آیا۔
انہوں نے حادثے کی وجہ کان میں میتھین گیس کی موجودگی کو قرار دیا اور بتایا کہ گیس دھماکے کے باعث کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا اور سینکڑوں فٹ گہرائی میں چھ کان کن پھنس گئے۔۔
مزید پڑھیں
چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق کان کنوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن  جاری ہے- شاہرگ اور کوئٹہ سے مائنز انسپکٹریٹ کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو کی ٹیم آکسیجن کے لیے استعمال ہونے والے متبادل راستے سے ٹیم کان کے متاثرہ حصے تک پہنچی ہے اور انہوں نے دو لاشیں نکال لی ہیں جبکہ دو مزید کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہیں جن کی لاشیں بھی آج رات تک نکال لی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ باقی دو پھنسے ہوئے کان کنوں کی تلاش جاری ہے۔ 
عبدالغنی نے بتایا کہ متاثرہ کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات،  شانگلہ اور دیر سے ہے
چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل کرنے کے بعد متاثرہ کان کو سیل کرکے تحقیقات شروع کی جائیں گی
حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے کان کنوں کی شناخت سرفراز احمد ولد جمعہ خان ،ساکن ضلع شانگلہ، غنی الرحمٰن ولد شادی خان، ساکن دیر، باچا خالد ولد محمد زمان ، ساکن سوات، رحمٰن اللہ، ساکن دیر، نجیب، ساکن ضلع دیر، اور نصیب گل ساکن سوات کے نام سے ہوئی۔
خیال رہے گذشتہ حال ہی میں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے بلوچستان کے کوئلہ کانوں میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور کان کنوں کے لیے نامناسب حفاظتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کر دیا تھا۔
انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین حبیب طاہر ایڈوکیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کانکنی کو صنعت کا درجہ دیا جائے تاجہ مناسب حفاظتی اقدامات نہ کرنے والے کانوں کے مالکان اور ٹھیکیداروں کو مائینز ایکٹ 1923 کے تحت جوابدہ ٹھہرایا جاسکے۔