بنوں:میت ساتھ لیے مظاہرین اورانتظامیہ میں مذاکرات تاحال بےنتیجہ

مقتول قبائلی رہنما کے میت کے ہمراہ اسلام آباد جانے کی کوشش کرنے والے جانی خیل مظاہرین کا باران پل کے مقام پر پڑاؤ جمعرات کو دوسرے روز بھی جا ری رہا جس میں بڑی تعداد میں مظاہرین موجود ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جانی خیل میں امن کا قیام یقینی بنایا جائے۔
مظاہرین گاڑیاں، بستر اور اشیائے ضرویہ ساتھ لے کر آئے ہوئے ہیں جبکہ مختلف قبائل کے افراد بھی اظہار یکجہتی کے لیے دھرنے کے مقام کا دورہ کر رہے ہیں۔
بکاخیل قبیلے کے عمائدین انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ جانی خیل کے مظاہرین و عمائدین اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد خان کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں مگر فریقین اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
عمائدین کا کہنا ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو چن چن کر قتل کرنے کا سلسلہ ایک دہائی سے جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں 4 نو عمر لڑکوں کی لاشیں ملنے کے بعد 8 روز تک دھرنے دینے کے بعد ہمارے ساتھ حکومت نے تحریری معاہدہ کیا لیکن آج تک اس پر عمل در آمد نہیں ہوا۔
مظاہرین نے کہا کہ گزشتہ روز بھی پولیس نے دھرنے کے شرکاء پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں متعدد شرکاء زخمی ہوگئے جبکہ مظاہرین کی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔
صوبائی وزیر ملک شاہ محمد خان کا کہنا ہے کہ جانی خیل قوم کے تمام مطالبات جائز ہیں گزشتہ روز ہونے والی تمام نقصانات کا ازالہ بھی کیا جاسکتا ہے لیکن جہاں تک پچھلے معاہدے کی بات ہے اس کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا۔
مظاہرین نے شاہ محمد وزیر کی تجویز پر 25 رکنی کمیٹی بنائی جس کے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاہم اس حوالے سے اب تک کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

متعلقہ خبریں