بنوں: پولیس اورمظاہرین میں جھڑپیں، ایک جاں بحق، متعددافراد زخمی

 

بنوں میں مقتول ملک نصیب خان کی لاش کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب مارچ کرنیوالے جانی خیل قبائل کے مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص جاں بحق جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد بنوں کے علاقے جانی خیل میں قیام امن کے لیے 24 دن سے جاری دھرنے کے شرکاء آج  اسلام آباد کی طرف مارچ کررہے ہیں۔ مظاہرین نے 24 دن گزرنے کے باوجود مقتول ملک نصیب خان کی تدفین نہیں کی۔

مارچ میں جانی خیل قبائل کے سیکڑوں افراد شریک ہیں جنہیں پولیس نے ٹوچی پل کے قریب رکاوٹیں کھڑی کرکے روک دیا۔

پولیس کی جانب سے ٹوچی پل سمیت مختلف مقامات پر کنٹینرز لگاکر روڈ کو بند کردیا گیا جس سے مظاہرین نے بنوں شہر پہنچنے کے لیے مختلف راستے اختیار کر کے شہر کی طرف سفر جاری رکھا۔

پولیس کی طرف سے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ  کیا گیا۔اور پولیس وین کو بھی آگ لگادی گئی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں واجد نامی نوجوان فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوگیا جبکہ 12 پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی پوئے۔

جانی خیل قبائل کا قافلہ باران پل تک پہنچا جہاں وہ خیمے لگا کر دوبارہ بیٹھ گئے جبکہ جرگہ عمائدین اور انتظامی افسران کے مابین ایک بار پھر مذاکرات شروع ہوگئے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی کے فیصلے کے بعد آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

جانی خیل قبائل کے رہنماء ملک معیز کا دعویٰ ہے کہ ہم پر امن طور پر اسلام آباد کی طرف مارچ کررہے تھے کہ پولیس نے ہم پر فائرنگ شروع کردی، جس سے ایک نوجوان جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

متعلقہ خبریں