’بنگلہ دیشی پاسپورٹ رکھنے والوں کے اسرائیل جانے پر پابندی برقرار ہے‘

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کی اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی برقرار رہے گی۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے اتوار کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ’وزارت خارجہ کی توجہ حال ہی میں اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے کیے گئے ایک ٹویٹ کی جانب مبذول کروائی گئی ہے جس میں بنگلہ دیش کے جاری کردہ ای پاسپورٹ پر اسرائیل کے سفر پر پابندی ختم کرنے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بظاہر ای پاسپورٹ کے نئے کتابچے سے یہ الجھن پیدا ہوئی ہے جس میں ’اسرائیل کو چھوڑ کر باقی تمام ممالک کے لیے‘ درج نہیں ہے۔‘
ای پاسپورٹ پر یہ الفاظ درج نہ ہونے کے حوالے سے وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ان الفاظ کو بنگلہ دیشی ای پاسپورٹ کے بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہٹایا گیا ہے اور اور اس سے مشرق وسطیٰ کے بارے میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔ بنگلہ دیشی پاسپورٹ رکھنے والوں کے اسرائیل جانے پر پابندی عائد ہے۔‘

بنگلہ دیش کے ای پاسپورٹ پر ’اسرائیل کو چھوڑ کر باقی تمام ممالک کے لیے‘ درج نہیں ہے۔‘ (فوٹو: دی انڈیپنڈنٹ بنگلہ دیش)
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت اسرائیل کے بارے میں اپنے مؤقف سے ہٹ نہیں رہی ہے اور بنگلہ دیش اس سلسلے میں اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے الاقصیٰ کمپاؤنڈ اور غزہ میں اسرائیل کی قابض فوج کی جانب سے شہریوں پر کیے جانے والے حالیہ مظالم کی مذمت کی ہے۔
بنگلہ دیش نے سنہ 1967 سے قبل کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو ریاست فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فلسطین اور اسرائیل تنازعے کے دو ریاستی حل کے بارے میں اپنے اصولی موقف کا اعادہ بھی کیا ہے۔