بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہرے، اقوام متحدہ کا ڈیجیٹل قانون پر نظرثانی کا مطالبہ

بنگلہ دیش میں سینکڑوں سماجی کارکنان کا ایک لکھاری کی دورانِ حراست ہلاکت کے خلاف احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ نے بنگلہ دیشی حکومت سے مخالفین کے خلاف استعمال ہونے والے ڈیجیٹل سکیورٹی قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب دارالحکومت ڈھاکہ میں طلبا نے وزارت داخلہ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ لکھاری مشتاق احمد کے ہائی سکیورٹی جیل میں ’قتل‘ پر کارروائی کی جائے اور ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ (ڈی ایس اے) کو منسوخ کیا جائے۔
مزید پڑھیں
پولیس نے طلبا مارچ کو حکومتی کمپلیکس، جہاں تمام بڑی وزارتوں کے دفاتر ہیں، اس سے 100 میٹر پہلے روک دیا۔
لکھاری احمد مشتاق کو 2018 میں نافذ ہو نے والے ڈیجیٹل سکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ گذشتہ سال مئی سے جیل میں قید تھے جہاں جمعرات کو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
مظاہرین نے پولیس کے ساتھ تصادم میں گرفتار ہونے والے 12 سے زائد سماجی کارکنان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
جبکہ طلبا کے رہنما مسعود رانا کا کہنا ہے کہ ’حکومت کے خلاف بغاوت ہو سکتی ہے۔‘
دیگر جماعتیں بھی احمد مشتاق کی موت کے خلاف جاری احتجاج میں شرکت کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مطالبہ ہے کہ احمد مشتاق کے ساتھ گرفتار ہونے والے کارٹونسٹ احمد کبیر کشور کو بھی رہا کیا جائے۔

ڈھاکہ میں طلبا نے وزارت داخلہ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلٹ نے بنگلہ دیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ احمد مشتاق کی موت کی شفاف تحقیقات کو ممکن بنایا جائے۔
مشیل بیچلٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’جس ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ کے تحت مشتاق احمد کو گرفتار کیا گیا، اس کا مکمل جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔‘
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کا مزید کہنا ہے کہ ’اپنے آزادی اظہار کے حق کو استعمال کرنے پر ڈیجیٹل ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے تمام افراد کو بھی لازمی رہا کیا جائے۔‘
خیال رہے کہ احمد مشتاق کو ایک آرٹیکل لکھنے اور فیس بک پر حسینہ واجد کے خلاف تنقیدی پوسٹس کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔