بنگلہ دیش میں لاک ڈاؤن کا نفاذ، ہزاروں افراد ڈھاکہ میں پھنس گئے

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ سے پہلے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں افراد پھنس گئے ہیں۔ 
خیال رہے کہ جمعرات یکم جولائی سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن نافذ ہوگا جبکہ ’محدود سطح‘ پر لاک ڈاؤن کا نفاذ پیر 28 جون سے ہوا ہے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام کی جانب سے ٹرانسپورٹ سروس روک دی گئی ہے جس کے باعث ہزاروں افراد دارالحکومت میں پھنس گئے ہیں۔  
مزید پڑھیں
اتوار کو بنگلہ دیش میں آٹھ ہزار تین سو سے زیادہ کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ پیر کو 119 افراد کورونا کی وبا سے ہلاک ہوئے۔
حکام کورونا وائرس کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافے کا سبب کورونا کی ڈیلٹا قسم کو قرار دیتے ہیں جس کا پہلا کیس انڈیا میں سامنے آیا تھا۔
بنگلہ دیش کی 16 کروڑ 68 لاکھ آبادی جمعرات سے گھروں تک محدود ہو جائے گی۔
لاک ڈاؤن میں اشیائے ضرورت کی دکانیں کھلی ہوں گی اور کچھ ایکسپورٹ فیکٹریوں کو کام کرنے کی اجازات دی گئی ہے۔
کابینہ کے سیکریٹری خوندکر انوارالاسلام نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے لیے جمعرات سے فوج تعینات کی جائے گی۔
’مسلح افواج  لاک ڈاؤن کے دوران گشت کرتی رہیں گی۔ اگر کسی نے ان کے احکام کو نظر انداز کیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

بنگلہ دیش کی 16 کروڑ 68 لاکھ آبادی جمعرات سے گھروں تک محدود ہو جائے گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں مزدور اپنے آبائی علاقوں کے لیے روانہ ہوئے۔ ڈھاکہ میں ہزاروں ورکرز پیر کو پیدل دفاتر جانے پر بھی مجبور ہوئے۔
پیر کی صبح سڑکوں پر بھی لوگوں کو دیکھا گیا۔ دفاتر اور کام کی جگہیں بدھ سے بند ہوں گی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اتوار کو دن کے اختتام تک سائیکل رکشوں کو اجازت تھی لیکن قیمتیں بہت زیادہ تھیں۔
60 برس کی شفالی بیگم جو مرکزی ڈھاکہ میں اپنی بیٹی سے ملنے جا رہی تھی، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ میں نے صبح سات بجے چلنا شروع کیا، مجھے کوئی بس یا کوئی دوسری گاڑی نہ مل سکی۔ میں رکشے کی سواری کی قیمت برداشت نہیں کر سکتی۔‘
بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافے کی وجہ سے سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر پابندی اپریل کے وسط میں نافذ ہوگئی تھی۔
مئی میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی ہوئی تھی لیکن اس مہینے پھر  کیسزمیں اضافہ ہوا ہے۔

بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کے کیسز میں رواں مہینے اضافہ ہوا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش میں تقریباً نو لاکھ کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 14 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کیسز کی اصل تعداد رپورٹ ہونے والی تعداد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ڈیلٹا ویریئنٹ کے تیزی سے پھیلاؤ نے دنیا بھر کے صحت کے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کم از کم 85 ممالک میں ڈیلٹا ویریئنٹ پھیل چکا ہے۔
انٹرنیشنل سینٹر فار ڈائیریل ڈیزیز کے ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دارالحکومت ڈھاکہ میں دو تہائی سے زیادہ نئے کیسز ڈیلٹا قسم کے ہیں۔
ہیلتھ سروسز ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان روبد امیند نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کی وجہ کورونا کی نئی ڈیلٹا قسم کے ہے۔‘