بنگلہ دیش: کورونا کی ’ڈیلٹا‘ قسم کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ، لاک ڈاؤن نافذ

بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کی نئی قسم ’ڈیلٹا پلس‘کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد حکومت نے لاک ڈاؤن لگانے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کے دن سے تمام سرکاری اور نجی دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے جائیں گے جبکہ ٹرانسپورٹ کا استعمال صرف طبی حالات میں کیا جائے گا۔
بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہنگامی صورتحال کے علاوہ کسی شہری کو بھی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں
محکمہ صحت کے ترجمان روبید امین نے کہا ہے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لیے پولیس اور سرحدی گارڈز کو تعینات کیا جائے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر فوج کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان روبید امین کا کہنا ہے کہ انتہائی خطرناک اور پریشان کن صورتحال ہے، اگر قابو نہ پایا گیا تو انڈیا جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سترہ کروڑ کی آبادی والے ملک بنگلہ دیش میں مئی کے وسط سے کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 
جمعے کے روز تقریباً چھ ہزار نئے کیسز سامنے آئے تھے جبکہ 108 افراد ہلاک ہوئے۔

بنگلہ دیش میں ایک ہفتے کے لیے سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ سرحد کے قریب واقع اضلاع میں تباہ کن صورتحال ہے، شہر کھلنا اور راج شاہی کے ہسپتال کورونا کے مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انڈیا میں کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ جمعے کے روز 50 ہزار سے کم نئے کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ مئی کے مہینے میں چار لاکھ کیسز روزانہ کی بنیاد پر سامنے آ رہے تھے۔
انڈیا میں کورونا کی نئی قسم ’ڈیلٹا پلس‘ سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد مغربی ریاست مہاراشٹر میں ایک مرتبہ پھر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ملک بھر میں ڈیلٹا پلس وائرس کے تقریباً 50 کیسز سامنے آئے ہیں۔