بچے والدین کوگھر سے نہیں نکال سکیں گے، نیاآرڈیننس جاری

بچے اب والدین کو گھر سے نہیں نکال سکیں گے، والدین چاہیں تو بچوں کو گھر سے نکال سکتے ہیں، پولیس بچوں کو والدین کی شکایت پر بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرڈیننس جاری کردیا۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے نیا آرڈیننس جاری کردیا جس کے تحت اب کسی نے والدین کو گھر سے نکالا تو ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں بھگتنا پڑیں گی۔

تحفظ والدین آرڈیننس 2021 آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت جاری کیا گیا۔ والدین کو بچوں کی زیادتیوں سے تحفظ دلانے کے آرڈیننس میں اور بھی کئی اہم اقدام شامل ہیں۔

آرڈیننس کے تحت گھر بچوں کی ملکیت ہونے یا کرائے پر ہونے کی صورت میں بھی والدین کو نہیں نکالا جاسکے گا، گھر اگر والدین کی ملکیت ہو تو والدین کو بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار ہوگا، بچوں کو تحریری نوٹس دیئے جانے کی صورت میں گھر خالی کرنا لازمی ہوگا، وقت پر گھرخالی نہ کرنے کی صورت میں 30دن تک جیل، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا اطلاق ہوگا۔

آرڈیننس میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کی جانب سے گھر نہ چھوڑنے کی صورت میں والدین کی شکایت پر ڈپٹی کمشنر کو کارروائی کا اختیار ہوگا، والدین کی شکایت پر پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار بھی ہوگا،

آرڈیننس کے تحت گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، آرڈیننس میں والدین اور بچوں کو اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں