بھارت نے چین سے ملحقہ سرحد 50ہزار فوجی تعینات کردیئے

بشکریہ بلومبرگ

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے چین سے ملحقہ سرحدوں پر مزید 50 ہزار کے لگ بھگ فوجی تعینات کر دیئے ہیں۔

بلوم برگ کی 29 جون کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران چینی سرحد کیساتھ 3 مختلف مقامات پر مزید فوج کے علاوہ جنگی طیاروں کے متعدد اسکواڈرن بھی منتقل کئے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی تعیناتیوں کے بعد چین سے ملحقہ سرحدوں پر بھی تعینات فوجیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔ رپورٹ سامنے آنے پر بھارتی افواج کے سربراہ اور وزیراعظم آفس کے ترجمان نے رابطے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی نے حال ہی میں تبت سے مزید فوج سنکیانگ ملٹری کمانڈ منتقل کی ہے جو ہمالیہ کے علاقے میں پیٹرولنگ کی ذمہ دار ہے۔

چین جنگی طیارے رکھنے کیلئے نئے رن وے اور بم پروف بنکرز کے علاوہ تبت کی متنازعہ سرحد پر نئے ایئر فیلڈز بھی تعمیر کر رہا ہے۔ بیجنگ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران طویل رینج والے بھاری ہتھیاروں، ٹینکوں ، راکٹ رجمنٹس اور ٹوئن انجن فائٹر طیاروں کا بھی اضافہ کیا ہے۔

ادھر ترجمان چینی وزارت خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران مزید فوجی تعیناتی سے متعلق سوال پر کہا کہ چین اور بھارت کے مابین موجودہ سرحدی صورت حال مستحکم ہے۔ دونوں ملک سرحدی مسائل کے حل کیلئے بات چیت کر رہے ہیں۔

بھارتی نیوی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں فوج کی معاونت کیلئے فرانسیسی رافیل طیارے تعینات کئے گئے ہیں، جو طویل رینج میزائلوں سے لیس ہیں۔