بھارت:80مسلمان خواتین کوآن لائن نیلامی کی فہرست میں ڈال دیاگیا

انتہاء پسند ہندوؤں کی بھارت میں مسلمان مخالف مہم سوشل میڈیا پر بھی جاری ہے، 80 سے زائد مسلم خواتین کی فروخت کا آن لائن اشتہار جاری کردیا، جس میں پائلٹ سمیت تعلیم یافتہ مسلمان خواتین شامل ہیں۔ بھارتی پولیس حکام نے تصاویر اور ذاتی معلومات شیئر کرنے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ کے مطابق چند ہفتوں کے دوران 80 سے زائد مسلمان خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ’گٹ ہب‘ نامی ایک ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئیں، جس کے ساتھ لکھا گیا تھا ’آج کی سُلی ڈیل‘۔ سُلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کیلئے استعمال ہوتی ہے۔

ایئر لائن پائلٹ ہانا محسن خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے ان کی دوست نے ایک ویب سائٹ کی جانب توجہ مبذول کروائی جس پر خواتین کی متعدد تصاویر موجود تھیں، ان میں سے چوتھی تصویر میری تھی اور اس دن کے غلام کے طور پر مجھے نیلامی کیلئے پیش کیا گیا تھا۔

ہانا نے مزید کہا کہ اس واقعے نے انہیں انتہائی خوفزدہ کردیا ہے، تب سے اب تک وہ مسلسل غصے کی کیفیت میں ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق گٹ ہب ویب سائٹ کے مطابق متعلقہ صارف نے ہراسیت، امتیازی سلوک اور تشدد پر اکسانے کے حوالے سے ان کی پالیسی کیخلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد اس کا اکاؤنٹ معطل کردیا گیا ہے۔

دہلی پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج کیا ہے۔

فروخت کیلئے پیش کی جانیوالی درجنوں مسلمان خواتین میں سے ایک 34 سالہ ثانیہ احمد جو ایک میڈیا کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں، نے اس سب کا ذمہ دار انتہاء پسند ہندوؤں پر مشتمل آن لائن ٹرولرز کو ٹھہرایا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی کے حکومت میں آنے کے بعد سے بھارت میں انتہاء پسند ہندوؤں کی انسانیت دشمن کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، آن لائن ٹرولرز صحافیوں اور سماجی کارکنوں سمیت دیگر افراد کو  ہتک آمیز پیغامات بھیجتے ہیں جن کی وجہ سے کئی صارفین اپنا اکاؤنٹ بند کرچکے ہیں۔

مودی حکومت میں مسلمان خود کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے لگے ہیں، مسلمانوں پر تشدد اور حملوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔

ایک بھارتی صحافی فاطمہ خان کو بھی گٹ ہب ویب سائٹ پر نیلامی کیلئے پیش کیا گیا۔ ان کا اس واقعے پر ٹویٹ پیغام میں کہنا ہے کہ ’یہ کس طرح سے قابل قبول ہے؟، اس کی کیا سزا ہوگی؟، اگر یہ (خواتین کی) فہرست بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی تو‘۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلمان مردوں اور خواتین کیخلاف تشدد اور ہراسانی کے یہ واقعات کب بند ہوں گے۔

متاثرہ صحافی فاطمہ خان کا کہنا ہے کہ جن خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ  مسلمان خواتین کے روایتی تصور کے مطابق نہیں ہیں۔

متاثرہ خاتون ثانیہ احمد کا کہنا ہے کہ مسلمان خواتین کو نشانہ بنا کر مسلمان مردوں کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جب آپ کسی پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، تو آپ خاندان کی خواتین پر حملہ کرتے ہیں، جو سب سے حساس نقطہ ہے۔

متعلقہ خبریں